امت نیوز ڈیسک//
سری نگر، 23 جولائی: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فوج، جموں و کشمیر پولیس، سول انتظامیہ اور مرکزی سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ جاری شری امرناتھ یاترا کے دوران زائرین کی حفاظت اور سہولت کے لیے باہمی رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے، جبکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر ملی ٹنسی کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی لائی جائے۔
اجلاس میں شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، فوج کی 15 اور 16 کور، انٹیلی جنس بیورو، شری امرناتھ شرائن بورڈ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں حالیہ شدید بارشوں کے پیش نظر یاترا کے حفاظتی انتظامات، رسد، ٹریفک اور موسمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ یاترا کی بحالی صرف موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔ انہوں نے یاترا کے راستوں پر ندی نالوں سے ملبہ فوری ہٹانے، سیلاب سے تحفظ کے انتظامات مضبوط بنانے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے بجلی، پانی، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز سمیت بنیادی ڈھانچے کا محکمانہ جائزہ لینے، یاترا راستوں کی صفائی، مناسب بیت الخلا، راشن، ایل پی جی، مٹی کے تیل اور ہنگامی طبی سامان کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
سرکاری ترجمان کے مطابق اب تک جاری امرناتھ یاترا کے پہلے 20 دنوں میں 3.91 لاکھ سے زائد عقیدت مند غار میں درشن کر چکے ہیں۔
ایل جی سنہا نے ہدایت دی کہ یاترا کے راستوں پر غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کرنے والوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور سو فیصد پری پیڈ سروس نظام نافذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اضافی ڈیزل جنریٹر، چوبیس گھنٹے طبی سہولیات، آکسیجن سلنڈر، ایمبولینسیں، ہر خیمے میں آگ بجھانے والے آلات اور جنگلی جانوروں سے تحفظ کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے مؤثر ٹریفک انتظام، گاڑیوں کی باقاعدہ جانچ اور بروقت موسمی انتباہ جاری کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔






