سری نگر//کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے منگل کے روز کہا کہ ”ہم اپنی تاریخ کے دو راہے پر ایسے کھڑے ہیں جہاں ہم ایسی کیفیت محسوس کر رہے ہیں جو ’گوئم مشکل و گرنہ گوئم مشکل ‘کے مصداق ہو گئی ہے۔
ہم نے ایک جمہوری اور سکیولر ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور ہم نے صاف الفاظ میں یہ بتا دیا تھا کہ ہم ثقافت ، تعلیم ، زبان ، وراثت اور دیگر شعبوں میں خود مختار رہیں گے اور اُسی عمل کو داخلی خود مختاری کا نام دیا گیا تھا۔ اور اسی راہ عمل کو آئین کی دفعہ 370 کے تحت محفوظ بنایا گیا تھا جو مرکز نے یک طرفہ طور غیر آئینی طریقے سے منسوخ کیا!
انہوں نے کہا اب جبکہ ہم کل العدم شدہ دفعہ 370 کی بحالی کےلئے اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، ادھر دوسری طرف ہم کو اپنے مصمم ارادے سے مرکز کی طرف سے اُس جارحانہ کاروائی کو جمہوری طریقے سے رو کنا چاہئے جس کے تحت مرکز ریاست جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بہت لوگوں کو تشویش ہے کہ مرکز آبادی کا تناسب تبدیل کر کے ریاست کی مسلم اکثریت کی حقیقت کو بدلنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کے اس ارادے کے بارے میں شبہات کو چیف الیکٹورل آفیسر ہردیش کمار کے حالیہ بیان سے تقویت ملی ہے ،جس میں اُس نے کہا تھا کہ ،”آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بہت سارے لوگ جو بحیثیت ووٹر فہرست میں شامل نہیں تھے، اب شامل ہوںگے۔ جو بھی شخص کسی وقت کےلئے جموںوکشمیر میں مقیم رہا ہو، وہ فہرست میں شامل ہوگا!
اُن کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق مزید 25 لاکھ ووٹروں کو درج کیا جا رہا ہے۔ یہ بات اکونامک ٹائمز نے اپنی اشاعت 22 اگست 2022 میں تفصیل سے بتائی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرکز جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔









