26 اگست کو کانگریس کو پانچ دہائیوں بعد خیر باد کہنے والے غلام نبی آزاد کی جموں وکشمیر کی سیاست میں واپسی ہو گئی ہے ۔ اس وقت غلام نبی آزاد جموںو کشمیر کے اضلاع کے دورے پر ہیں ۔ پہلے انہوںنے جموں میں عوامی جلسہ کیااور اسکے بعدخطہ چناب اور پھر وہ وادی کشمیربھی آئے۔
غلام نبی آزاد کی جانب سے کانگریس کو خیر باد کہنے کے بعد جہاں جموں وکشمیر میں کانگریس یونٹ ٹوٹ پھوٹ کاشکار دیکھائی دیتا نظر آرہاہے وہیں دیگر جماعتیں بھی آزاد کی جموںو کشمیر میں واپسی کی تپش محسوس کرتی نظر آرہی ہیں ۔ الطاف بخاری کی جموںو کشمیر اپنی پارٹی سے کئی لیڈران اور کارکنا ن پارٹی کو خیر باد کہہ کر آزاد گروپ میں چلے گئے ہیں ۔ اس کو دیکھتے ہوئے الطاف بخاری نے بجبہاڑہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ہی دفعہ370 کی منسوخی کے ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بے وقوف نہیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ آپ نے کس کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا ۔وہ جانتے ہیں آپ نے کس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اورجموںوکشمیر کے لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا تھا ۔
بخاری نے آزاد پر یہ سیاسی حملہ ایسے وقت میں کیا جب آزاد کچھ دنوں بعد اپنی نئی پارٹی تشکیل دینے والے ہیں اور بخاری کو ضرور اپنے کیڈر کو ایک جٹ رکھنے میں دشواری پیدا ہو رہی ہے ۔جبکہ پہلے ہی کئی لیڈران انکی پارٹی سے نکل کر آزاد خیمے میں شامل ہوگئے ہیں ۔دوسری طرف سے بخاری کے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے آزاد نے بارہمولہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دفعہ370 کی بحالی کو خارج ازامکان قرار دیا ۔وہیں انہوںنے کہا کہ جن کو پارلیمنٹ کے کام کاج کا نہیں پتہ وہ کم بولا کریں ،میری370 کی منسوخی کے خلاف تقریر 200 ممالک نے دیکھی‘ اگر انہوں (الطاف بخاری)نے نہیں دیکھی تو وہ انکی آنکھوں اور کانوں کا دھوکا ہے! وہیں آزاد نے ایک اور بڑا بیان دے کر کہا کچھ کہتے ہیں کہ غلام نبی آزاد370 پر کیوں نہیں بولتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ”میں کسی کو ووٹ کےلئے گمراہ نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔پارلیمنٹ میں370 واپس لانے کےلئے دوتہائی اکثریت ہونی چاہیے۔میں 370نہیں دلا سکتا “۔
آزاد کے اس بیان پر عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کی اتحادی جماعتیں سخت ناراض نظرآرہی ہیں ۔ جنہوںنے ردعمل کرتے ہوئے کہا کہ آزاد لوگوں کو نااُمید کرنا چاہتے ہیں ۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بیان میں کہا کہ”آزاد صاحب ایک قدآور لیڈر ہیں ،جموں وکشمیر کے لوگوں کو ان سے بڑی اُمیدیں ہیں ۔اس طرح جموں وکشمیر کی اُمید توڑنا اچھی بات نہیں ہے “۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ردعمل کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماوﺅں کو لوگوں میں نااُمیدی نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ اُمیددلانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔سیاسی معاملات کےلئے اکثریت نہیں بلکہ ُامید اور عزم کی ضرورت ہے ۔عوامی نیشنل کانفرنس کے مظفر شاہ نے کہا کہ ہم370 پر لوگوں کو گمراہ نہیں کر رہے ،ہم نے پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا رُخ کیا ہے ۔وہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے مزید کہا کہ میں جموںو کشمیر کے سیاسی لیڈران کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ370 کے بجائے ترقی کو پہلے رکھے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر چہ غلام نبی آزاد کا بیان حقیقت پر مبنی ہے تاہم انکی جانب سے کانگریس کو خیر باد کہنے کے بعد ایک طرف جہاں انکے نظریے میں تبدیلی نظر آتی دکھائی دے رہی ہے وہیں دفعہ370کے فیصلے کے خلاف انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں بولا ہے ۔وہیں جموں سے لے کر کشمیر تک وہ کئی بار وزیر اعظم مودی کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں ۔انہوںنے انکے دور(وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر) میں گجرات کے یاتریوں پرمشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ مودی سخت قسم کے انسان ہیں لیکن اس حملے کے بعد انہوںنے جو ہمدردی دکھائی اس سے میری سوچ انکے متعلق بدل گئی ۔
گزشتہ سال پارلیمنٹ میںغلام نبی آزاد کے متعلق مودی کی جذباتی تقریب کے بعد جموں میں آزاد نے مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے پر ہونے کے باوجود انہوںنے اپنی جڑوں کو یاد رکھا ہے اور خود کو فخر سے” چائے والا“ کہتے ہیں ۔ راجیہ سبھاسے انکی مدت ختم ہونے کے بعد ہی قیاس لگائے جارہے تھے کہ آزاد بھاجپا میں شامل ہونگے لیکن اگرچہ آزاد نے ان خبروں کو مسترد کیا تاہم کچھ سیاسی مبصرین یہ قیاس ضرور لگارہے ہیں کہ جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات میں ضرور آزاد ”بھاجپا کےساتھ اتحاد“ کرتے دیکھائی دے سکتے ہیں ۔وہیں 370 کے متعلق آزاد کا بیان اسی سلسلے کی کڑی تو نہیں اب صرف آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔










