امت نیوز ڈیسک//
نئی دہلی: جنوبی کوریا میں سیول کے ضلع ایٹاون میں ہالووین کی تقریبات کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 151 افراد ہلاک اور تقریبا سو افراد زخمی ہو گئے۔ بھارت نے اس حادثے میں ہونے والی اموات پر تعزیت کیا اظہار کیا ہے۔ وزیرخارجہ جئے شنکر نے ٹویٹر پر کہا، سیول میں بھگدڑ کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرا صدمہ ہے۔ ہم ان لوگوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ ہم اس مشکل وقت میں جمہوریہ کوریا کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیرخارجہ کا ٹویٹجنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے فائر حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سیئول ہالووین کے خوفناک بھگدڑ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 151 ہو گئی، متاثرین میں سے 19 کی شناخت غیر ملکیوں کے طور پر ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے آج صبح جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ حادثے پر قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے، یول نے آج یہاں قومی ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ حادثہ واقعی افسوسناک ہے۔ حادثے پر تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔قابل ذکر ہے کہ یہ حادثہ کل دیر رات اٹاون کے مشہور نائٹ کلب کے قریب ایک تنگ گلی میں بھگدڑ کی وجہ سے پیش آیا۔ پولیس کا خیال ہے کہ ہالووین کی تقریبات میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔
واضح رہے کہ ہالووین مغربی ممالک کے لیے اہم ہے اور کئی ممالک میں اس کا ‘جادو’ سر چڑھ کر بولنا شروع ہو گیا ہے۔ ہر سال لوگ 31 اکتوبر کو منائے جانے والے اس تہوار کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، میکسیکو سمیت کئی ممالک میں لوگ کئی طرح کے میک اپ اور ملبوسات پہن کر بھوت بن جاتے ہیں۔دراصل ہالووین کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا۔ فصل کی کٹائی کے موسم میں کسانوں کا خیال تھا کہ بری روحیں زمین پر آکر ان کی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس لیے انہیں ڈرانے کے لیے وہ خود ہی خوفناک شکل اختیار کر لیتے تھے۔ لیکن جدید دور میں یہ جشن منانے کا ایک پرلطف اور ٹھنڈا طریقہ بن گیا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت میں بھی کافی اضافہ ہو رہا ہے۔







