امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: مرکزی سرکار جموں کشمیر میں جلد اسمبلی انتخابات منعقد کرائے تاکہ یہاں چل رہی سیاسی غیر یقینی کو ختم کیا جائے۔ گزشتہ آٹھ برسوں سے جموں کشمیر میں انتخابات نہ کرانے سے لوگوں و سیاسی لیڑران میں بھی غیر یقینی پیدا ہوئی ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان باتوں کا اظہار غلام نبی آزاد نے سرینگر میں ایک جوائننگ تقریب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔
جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرکے سیاسی تذبذب کو ختم کیا جائے،آزاد جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے صدر غلام بنی آزاد نے کہا کہ امن کی راہ سے بھٹک گئے نوجوانوں کو واپس لانے کی کوشش کرنے چاہیے تاکہ ان کے والدین امن و چین کی زندگی بسر کرے اور یہ نوجوان بھی زندہ رہ کر اپنے والدین کا سہارا بنے۔
غلام نبی آزاد نے نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں درجنوں نوجوانوں نے بندوق کی راہ ترک کی تھی،لیکن آج حکومت صرف مارنے پر تلے ہوئے ہیں جس سے یہاں صرف نوجوانوں کا خاتمہ ہوگا۔ پاکستان کے ساتھ مزاکرات کرنے کے سوال پر آزاد نے کہا کہ اس کا فیصلے مرکزی سرکار ہی لے سکتی ہے۔آزاد نے کہا کہ ملک میں آج بے روزگاری، غربت، مہنگاہی عروج پر ہے لیکن ٹی وی پر ہرا ہی ہرا دکھایا جارہا ہے اور سرکار اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔
"غیر ریاستی باشندوں کو جموں وکشمیر میں ووٹ کا حق دینا قبول نہیں” انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں بھی نوجوانوں آئے روز روزگار کے لیے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ ڈیلی ویجرز وغیرہ بھی سڑکوں پر مستقلی کے لیے لئے برسوں سے ہے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی جارہی ہے۔ آزاد نے کہا کہ وہ جموں وکشمیر میں یکجہتی کی سیاست کرنے آئے ہے تاکہ منافرت اور تقسیم کی سیاست کو ہرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جموں اور کشمیر کا آپس میں تہذیبی رشتہ ہونے کے علاوہ اقتصادی رشتہ ہے جو انکی پارٹی کو برقرار رکھنے کی حتمی کوشش کرنے ہے۔









