امت نیوز ڈیسک //
سینئر بی جے پی لیڈر دیویندر سنگھ رانانے وقتا فوقتا ملک کے بانی حصوں کے ساتھ جموں و کشمیر کے اٹوٹ رشتے کو کمزور کرنے پر کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں ہندوستان کو بد نام کر رہے ہیں، انہیں اس حساس معاملے پر قوم کو متحد رکھنے کی بات کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔ مختلف وفود سے بات کرتے ہوئے رانا نے کہا کانگریس نے ہمیشہ قوم کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کیا لیکن وہاب ہندوستان کی واحد ہستی کے دشمن عناصر کی چھتری تلے جموں و کشمیر جاکر قوم کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے ریڈ لائن نہیں پھلانگ لگا سکتی ہے ، جنھوں نے ان کی حمایت کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں راہول گاندھی اور ان کے بینڈ ویگن کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہونے والا ہے۔ انہوں نے یاترا کی اخلاقی جوازیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جب کنیا کماری میں سب سے زیادہ متنازعہ اور تفرقہ انگیز بیجاری کے ساتھ شروع میں گرم جوشی دکھائی گئی تو یہ قوم کو کیسے باندھ سکتی ہے۔ یاترا آگے بڑھنے کے ساتھ ، کانگریس نے ان تمام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو قومی فخر اور روایتی اتحاد کو نیچا دکھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یا ترا کا عروج ہندوستان کے باغیوں کے مشترکہ گینگ کی برکت ہو گا جن کی ہمدردیاں سرحد پار دشمن ممالک کے ساتھ رہتی ہیں۔ دیویندر رانا نے کہا کہ جموں جنگجوؤں کی سر زمین ہے،جنہوں نے ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں اور یہ ملک کی اخلاقیات کو توڑنے پر تلے ہوئے لوگوں کا خیر مقدم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یا ترا کو ہندوستانی سیاست میں کسی طرح کی مطابقت حاصل کرنے کے لئے عظیم پرانی پارٹی کی ایک غلط مہم جوئی اور مایوس کن کو ششش قرار دیا۔ وفود نے انہیں بے حد عوامی اہمیت کے مختلف مسائل سے آگاہ کیا اور ان کا جواب دیتے ہوئے رانا نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے شکایات کے ازالے کے مضبوط طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں میں اپنے مسائل کے حل کے لیے اعتماد کا احساس پیدا ہوا ہے۔ رانا نے کہا کہ ”عوامی نمائندوں کا کردار اہم بن جاتا ہے کہ کمیونٹی اہمیت کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مناسب سطح پر پیش کیا جائے تاکہ ان کا سنجیدگی سے ازالہ کیا جاسکے ۔ ولیج ڈیولپمنٹ کمیٹی، جندرہ، دھن اور نا گولہ (بلاک ڈنسال) کے ایک وفد نے بھی رانا سے ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں جندرہ کے لیے نئے تعمیر ہونے والے ڈگری کالج کے لیے بلڈ نگ کمپلیکس کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ میمورنڈم کے مطابق کلاسز شروع کرنے کے لیے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حوالے کیے جانے سے قبل عمارت میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نوجوان طلباء کی زندگیوں سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہونے کی وجہ سے محکمہ ہائر ایجو کیشن اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے یہ دیکھنے کے لیے دو بر ساتوں کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ آیا عمارت کی حالت مزید خراب ہوتی ہے یا نہیں۔











