امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال قدر بہتر ہے اور اتنی بھی ناساز نہیں ہے جتنا کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ کشمیر میں اس سے بھی بہتر حالت ہو۔
انہوں نےکہا کہ پچھلے تین برسوں میں کشمیر میں کافی سیٹیبلٹی آئی ہے. کشمیر میں اب چند گنے چنے ایسے واقعے پیش آئے ہوئے جس میں کشمیری پنڈتوں اور غیر مقامی مزدورں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے۔
مظفر حسین بیگ نے کہا کہ کشمیر میں حکام نے قصبوں اور شہروں کو نظر آنداز کیا گیا ہیں کیونکہ انتخابات گاؤں لیول(پینجائتی، بلاک اور ڈسٹرکٹ لیول) پر ہوئے نہ کہ شہروں کے لیول پر ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ پنچائت ، بلاک اور ڈسٹرکٹ لیول پر کام بہت اچھا ہورہا ہے، لیکن اس کے برعکس شہروں میں ابھی تک 30 فیصد ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔جموں و کشمیر میں تبھی شہروں میں ترقی ہوگی جب یہاں اسمبلی کے انتخابات ہونگے جن کے پاس اس کے اختیار ہونگے۔
نائب سابق وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے لیے میں پیشن گوئی نہیں کرسکتا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ انتخابات میں ابھی وقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب کی جو اسمبلی بنے گی مجھے لگتا ہے اس میں وہی اختیار ہونگے جو ڈی ڈی سی اور پینچائیتوں کو ہونگے جس کے لیے ان کو قانون بنانے کی ضرورت ہے جس میں وقت لگے گا۔
مظفر حسین بیگ نے کہا کہ پاکستان کی حالات ابھی بہت بری ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان ایک ایماندار وزیر اعظم ہیں جس کو عوام نے چنا اور پھر اسے ایک تقریب میں گولیاں چلا کر زخمی کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جتنا امن و امان پاکستان میں قائم ہوگا اور بھارت اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات ہونگے اتنے ہی یہاں کی عوام کی حالت بہتر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نھارت کو بندوق کے سہارے نہین بلکہ آپس میں مل کر بات کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک پڑوسی ہونے کے ناتے ہمیں اس وقت پاکستان کی بہتر صورتحال ہونے کے لیے دعاء کرنی چاہیے۔









