15 نومبر کوقصبہ سوپور میں ٹیکسی یونینوں سمیت ٹرانسپورٹرز نے جنرل بس اسٹینڈ میں ”غیر قانونی“ سوموز کو جگہ دینے کے حکام کے اقدام کے خلاف غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی کال دی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
رواں ماہ 15 نومبر کو ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور میں ٹیکسی یونینوں سمیت ٹرانسپورٹرز نے جنرل بس اسٹینڈ میں ”غیر قانونی“ سوموز کو جگہ دینے کے حکام کے اقدام کے خلاف غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی کال دی۔اطلاعات کے مطابق ٹرانسپورٹرز انتظامیہ کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جنرل بس اسٹینڈ پر جمع ہوئے۔ چیئرمین گریجویٹ منی بس مالکان سجاد احمد چوپان نے کہا کہ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام ٹرانسپورٹ گاڑیاں اس وقت تک سڑکوں پر نہیں چلیں گی جب تک نہ انکے مطالبات کو فوری طور حل کیا جائے۔ ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹرز اور عوام کے مفاد میں فوری طور پر اس آرڈر کو منسوخ کیا جائے۔وہیں گریجویٹ منی بس مالکان کے صدر عبدالحمید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل بس سٹینڈ سوپور میںغیر قانونی ٹیکسیوں کو جگہ دینے کا انتظامیہ کا فیصلہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔اس سے قبل 14 نومبر یعنی سوموار کے روز، قصبے میں ٹریفک کو منظم کرنے، جنرل بس اسٹینڈ سوپور میں غیر قانونی سوموز کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ایک جائزہ میٹنگ کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپور پرویز سجاد کی طرف سے ایک باضابطہ حکم جاری کیا گیاجس کے اگلے روز سے ہی ٹرانسپورٹرز اس حکم نامے کے خلاف احتجاج پر بیٹھ گئے۔ادھر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپور، پرویز سجاد نے بتایا کہ اس حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا۔تاہم چھ روز تک ٹرانسپورٹرز کی جانب سے احتجاج جاری رہنے کے بعد ڈپٹی کمشنر بارہمولہ ڈاکٹر سحرش اصغر نے سوپور انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامہ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی کو اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ”اُمت نیوز“ نے چیرمین منی بس اڈہ سوپور سجاد احمد چوپان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ایسی ساٹھ مسافر گاڑیوں کو منی بس سٹینڈ کے سامنے جگہ دی جا رہی ہے تاہم جگہ کی تنگی کے باعث منی بس سٹینڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گاڑیاں ”آوارہ طریقے سے“مدر اینڈ چائلڈ اسپتال اور سُپر بازار سوپور سے نکلتی ہیںلیکن اب انہیں منی بس سٹینڈ کے سامنے جگہ دی جا رہی ہے جس سے وہاں دکانوں کو جگہ نہیں رہے گی اور بس سٹینڈ سے بسوں کو نکلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہیں انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کمیٹی کی جانب سے انتظامیہ کو ان ساٹھ سوموز کو دوسری مخصوص جگہ دینے کی تجویز دی گئی ہے اور اس ضمن میں چار جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وہیں دوسری طرف سے ٹرانسپورٹرز نے مسافروں کو راحت دیتے ہوئے اپنا احتجاج ایک ہفتے کےلئے (اگلے سنیچر) تک موخر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال موخر کرنے کا فیصلہ انتطامیہ کی جانب سے انکے مطالبات ماننے کے بعد لیا گیا۔
” انتظامیہ کی جانب سے ساٹھ” آوارہ“ مسافر گاڑیوں کو منی بس سٹینڈ کے سامنے جگہ دی جا رہی ہے تاہم جگہ کی تنگی کے باعث منی بس سٹینڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا“









