• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
اتوار, فروری ۸, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی عدالت کی جانب سے ملوث کیپٹن کےلئے عمر قید کی سزا تجویز

امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی عدالت کی جانب سے ملوث کیپٹن کےلئے عمر قید کی سزا تجویز

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
10/03/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

فوجی عدالت کافیصلہ اگرچہ مارے گئے معصومین کی زندگی نہیں لوٹاسکتا لیکن اس سے عدل و انصاف کا بول بولا ضرور ہوا ہے!

جولائی2020 میں امشی پورہ شوپیان کے مقام پر اسٹیج کئے گئے فرضی مقابلےمیں ملوث فوجی کیپٹن کو عمر قید کی سزا دئے جانے کی خبر باد سموم کے موسم میں تازہ ہوا کے کسی خوشگوار جھونکے کی مانند عوام الناس کی سماعتوں کی نذر ہوئی اور یقیناً ہر انصاف پسند کےلئے اطمینان و انبساط کا باعث بنی ہے۔ غلط کار آفیسروں کے خلاف خود فوج کے ادارے کی جانب سے اٹھائے گئے اس قسم کے اقدامات ہر لحاظ سے قابل ستائش ہیں اور حق یہ ہے کہ اس قسم کے اقدامات جہاں انسانوں کا انسانیت میں یقین پختہ کردیتے ہیں وہیںپر قانون، سزاو جزا، مظلوم کی آہ و فغان کی قدر و قیمت کو بھی بڑھادینے کا کام کرتے ہیں۔
اَمشی پورہ واقعے کے سلسلے میں فوجی عدالت نے ایک سال سے کم مدت کے دوران تمام ضروری قانونی اور عدالتی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعد جولائی 2020 میں شوپیان میںفرضی اَنکاونٹر میں تین نوجوانوں کی ہلاکت کے سلسلے میں ایک کیپٹن کو عمر قید کی سزا سنانے کی سفارش کرکے ایک مثبت سوچ کو ابھارا ہے۔واقعے کے ظہور کے معاً بعد کیپٹن بھوپیندر سنگھ کو کورٹ مارشل کی سزادی گئی تھی جب کورٹ آف انکوائری اور گواہیوں اور شواہدات کے خلاصے سے پتہ چلا کہ فوجیوں نے آرمڈ فورسز ( خصوصی اختیارات) ایکٹ افسپا کے تحت حاصل اختیارات کو غلط استعمال کرتے ہوئےاپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔واضح رہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے کی گئی اس سفارش کو تبھی عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے جب عمر قید کی سزا کی توثیق وتصدیق اعلیٰ فوجی حکام کریں گے اور عوامی حلقوں کے اندر امید ہے کہ ایسا ہوگا۔ یاد رہے کہ18جولائی2020کو راجوری ضلع سے تعلق رکھنے والے تین افراد امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار جو آپس میں رشتہ دار بھی تھے اور شوپیان میں مزدوری کی غرض سے آئے ہوئے تھے‘ کوشوپیان ضلع کے ایک دور افتادہ گائوں میں فرضی انکائونٹر کے دوران مارڈالا گیا تھا اور انہیں’’غیر ملکی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا‘‘۔رائج پروٹوکول کے مطابق ان تینوں کی گولیوں سے چھلنی لاشوں کوپولیس کے حوالے کردیاگیا جس نے انہیں بارہ مولہ لےجاکردفن کردیا۔جب ان تینوں مقتولین کی تصاویر اخبارات اور سوشل میڈیا پرآ گئیں تو راجوری میں ان کے گھر والوں نے انہیں پہچان کر آرمی اور میڈیا کے دعوئوں کی نفی کردی اور دعویٰ کردیا کہ یہ تینوں کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ ان کے معصوم بچے تھے جن کا عسکریت یا تشدد کے ساتھ دور کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ میڈیا پر ان ہلاکتوں کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد فوج نے فوری طور پر ایک کورٹ آف انکوائری تشکیل دی جس نے اس بات کا ابتدائی ثبوت پایا کہ فوجیوں نے افسپاکے تحت حاصل کردہ اختیارات سے واقعی تجاوز کیاتھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس دن اس فرضی تصادم کو انجام دیا گیا مختلف نجی چینلوں سے اس واقعے کو خاصی کوریج ملی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس وقت یہ فرضی مقابلہ آرائی براہ راست نشر ہورہی تھی ٹھیک اسی وقت بھارت کے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ جموں وکشمیر کے دورے پر تھے۔ اس روزصبح کے بلیٹن میں اکثر نیوزچینل اس ’’کامیاب آپریشن کو فوج کی بڑی دلیرانہ اور بروقت کارروائی قرار دیتے ہوئے خبر دے رہےتھے کہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے امشی پورہ گاؤں میں صبح سویرے دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔پولیس، فوج کی 62آر آر اور سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ ٹیم نے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مخصوص اطلاع پر محاصرے اور تلاشی آپریشن شروع کیااور جیسے ہی فورسز کی مشترکہ ٹیم مشتبہ مقام کی طرف پہنچی تو چھپے ہوئے دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی جس میںتصادم شروع ہوا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بھی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کی۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسندوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ مقابلے ایک ایسے وقت میںہورہے ہیں جب کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہیں۔‘‘

واقعے کے بعد جب مختلف حلقوں خاص طور پر مقتولین کے ورثا کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو پولیس حکام نے جموں وکشمیر کے ایل جی کی ہدایت پر ایک کیس درج کیا۔ ایک اسپیشل انوسٹگیشن ٹیم بنائی گئی جس کو اس کیس سے متعلق تحقیقات کرنے کا اختیار دیا گیا۔جنوری 2021 میں پولیس کی اسپیشل ٹیم نے ایک چارج شیٹ دائر کردی جس میں بتایا گیا کہ مذکورہ فوجی آفیسر نے 20 لاکھ روپئے کی انعامی رقم کےلئے اس فرضی تصادم میں تین معصوم شہریوں کو ہلاک کیا۔چارج شیٹ کے مطابق آرمی کپتان نے دو مقامی ساتھیوں کی مدد سے یہ کام کیا۔ضلع کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کی گئی چارج شیٹ میں اس کیس میں ملوث دوشہری تابش نظیر اور احمد لون کے رول کی تفصیلات بھی شامل کی گئی۔اس کے بعد لون گواہ بن گیااور مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم پر مشتمل بیان بھی درج کرایاہے۔جارج شیٹ کے مطابق، انکاونٹر کر کے، تینوں ملزمان نے جان بوجھ کر ثبوت ضائع کر دئے جو انہوں نے کیا ہے اور جان بوجھ کر جھوٹی معلومات کو ایک مجرمانہ سازش کے حصے کے طور پر پیش کیا جو ان کے در میان نقد انعامات پر قبضہ کرنے کے مقصد سے رچی گئی تھی۔ تاہم، فوج نے اس بات کی تردید کی تھی کہ کیپٹن نے نقد انعام کے لیے انکاونٹر کیا اور کہا کہ اس کے اہلکاروں کے لیے ایسا کوئی نظام نہیں ہے کہ وہ جنگی حالات میں یاد دوسری صورت میں ڈیوٹی کے دوران کسی کارروائی کو انجام دیں۔پولیس چارج شیٹ میں کہا گیاکہ ملزم کیپٹن سنگھ نے شواہد کو تباہ کر دیا، انہوں نے دیگر دو ملزمان کے ساتھ مل کر ایک پناہ گاہ کو آگ لگادی جہاں انکاونٹر کیا گیا تھا۔ ایس آئی ٹی کی چارج شیٹ میں جائے وقوعہ کے فرانزک تجزیہ کی تحصیلات دی گئی جس کی تصویر ہر ممکن نقطہ نظر سے لی گئی تھی۔ ایف ایس ایل (فارنزک اینڈ سائنٹفک لیبارٹری) کی ٹیم نے اہم شواہد برآمد کیے جنہیں ضبط کر لیا گیا۔

یہ اسپیشل ٹیم ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس وجاہت حسین کی سربراہی میں کام کررہی تھی اور مذکورہ ڈی ایس پی نے بذات خود تینوں افراد کے اہل خانہ کا ڈی این اے نمونہ حاصل کرنے کے لیے راجوری کا سفر کیا تھا۔ فرضی انکائونٹر میں بلاک تینوں نوجوانوں کے ڈی این اے نمونے کنبوں کے ساتھ مل گئے جسکے بعد اس یہ معلوم ہوا کہ یہ فرضی تصادم تھا اور پولیس نے پیر پورہ پولیس اسٹیشن میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 142/2020 درج کرکے مزید تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

میڈیا اور دوسرے ذرائع پر یہ بات گشت کرنے نیز پولیس کی ابتدائی انکوائری کے معاً بعد ‘ فوج کے ادارے نے بھی اس واقعے کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات جاری کئے ۔اس انکوائری کے اختتام پر یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ فوجی دستوں نے آرمڈ فورسیس اسپیشل پاؤر ایکٹ(اے ایف ایس پی اے) کے تحت فراہم کردہ اختیارکابیجا استعمال کیاہے۔اس کے پیش نظر فوج نےاپنی اندرونی تادیبی کاروائی شروع کی۔ ڈی این اے جانچ کے ذریعہ امشی پورہ میں مارے گئے نوجوانوں کی نعشوں کی شناخت کی گئی اور اور نعشوں کوان کے گھر والو ں کے سپرد کردیاگیاتھا۔پندرہویں بٹالین کےجنرل بی ایس راجو کے مطابق شواہد اکٹھا کئے جاچکے ہیں اور قانون کے مطابق اگلی کاروائی فوج کرے گی۔ اسوقت معاملے سے واقف عہدیداروں کا کہنا تھا کہ مذکورہ فوجی کپتان کو اے ایف ایس پی اے1990کے تحت فراہم کردہ اختیارات کی خلاف ورزی اور چیف آف آرمی کو سپریم کورٹ کی جانب سے منظور شدہ اقدامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کورٹ مارشل کا سامناکرنا پڑسکتا ہے۔جموں اور کشمیر پولیس کی اسپیشل تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے دائر کردہ چارج شیٹ میں 75عینی گواہوں کو شامل کیاگیا جو حقائق کی حمایت میں کھڑے ہوئے اور اس کے علاوہ تکنیکی شواہد جیسے معاملے میں ملوث ملزم افراد کے کال کی تفصیلات بھی اس میں شامل کی گئیں۔واقعہ کے وقت کپتان سنگھ کی ٹیم میں شامل صوبیدار گرورام‘ لانس نائیک روی کمار‘ سپاہی اشونی کمار او ر یوگیش نامی فوجی اہلکاروں کے ناموں کو بھی چارج شیٹ میں شامل کیاگیاتھا۔

چارج شیٹ میں نام آنے کے بعد مبینہ طور پر کیپٹن کے جتلائے گئے دوستوں تابش نذیر کے رشتہ داروں نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاج بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ اُس کے بیٹے تابش نذیر کا امشی پورہ جھڑپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سوگن شوپیان کےاس نوجوان تابش نذیر کے والد نے الزام لگایا تھاکہ راجوری کے تین نوجوان مزدروں کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث اصل ملزمان کو بچانے کے لئے میرے بیٹے کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔وہیں فوجی کیپٹن کو عمر قید کی سزا سنانے پرمقتول نوجوانوں کے لواحقین نے ایل جی منوج سنھا کا شکریہ ادا کیا ۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ کام کرنے والے دو مقامی نوجوانوں کے خلاف عدالت میں کیس چل رہا ہے اور اُنھیں بھی سخت سزا ملنی چاہئے۔ان کے مطابق بے گناہ مزدوروں کو کمرے سے نکال کر قتل کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کام کو انجام دیا وہ عمربھر روئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان تین برسوں کے دوران ہم نے بہت سارے مصیبتوں کو دیکھا ہے۔اہل خانہ نے کہا کہ ایل جی منوج سنہا نے گھر کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں پورا یقین ہے کہ ایل جی منوج سنہا اس حوالے سے بھی بہت جلد فیصلہ لیں گے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 2020میں راجوری میں متوفین کے خاندانوں سے ملاقات کی تھی اور انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام پہنچایا تھا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت کی طرف سے ہر طرح کی حمایت کے ساتھ ان کا خیال رکھا جائے گا۔ بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ کےبعدلاشوں کو بارہمولہ میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا تھا اور راجوری میں ان کے آبائی گاوں میں دفن کیا گیا تھا۔

درایں اثناجموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے فرضی تصادم کے حوالے سے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے فرضی تصادم میں ملوث افسر کو عمر قید کی سزا کی تجویز کو خوش آئند قرار دیا۔ سماجی رابطہ کی سائٹ ٹویٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ امشی پورہ فرضی انکاؤنٹر میں ملوث کیپٹن کو عمر قید کی سزا تجویز کرنا ایسے معاملات میں احتساب پیدا کرنے کی طرف ایک خوش آئند قدم ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ لاوےپورہ اور حیدر پورہ انکاؤنٹر کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا جائے گا تاکہ اس طرح کے خوفناک واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکا جاسکے۔انہوں نے مزید کہاکہ امید ہےایسا ہی ہوگا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہلاک شدہ نوجوانوں میں سے 25سالہ ابرار احمد کے والد محمد یوسف نے فرضی انکاؤنٹر میں میں ہلاک کیے گئے تینوں نوجوانوں کی شناخت کی تھی۔مارے گئے دیگر دو نوجوانوں میں محمد یوسف کے مطابق، ان کے فزرند کے علاوہ ان کے ہم زلف اور برادر نسبتی کے فرزنداں بالترتيب16سالہ محمد ابرار اور21سالہ امتیازتھے ۔ محبوبہ مفتی کا واضح اشارہ سنہ 2000میں ہوئے سرینگر کے مضافتی علاقہ لاوے پورے تصادم جس کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے دعوی کیا تھا کہ تین عسکریت پسند لاور پورہ میں ایک تصادم میں ہلاک کیے گئے ہیں لیکن تینوں کے اہل خانہ نے پولیس کنٹرول روم کے باہر احتجاج کرتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ وہ بے قصور ہیں اور انھیں فرضی انکائونٹر میں مارا گیا ہے،نیزنومبر2021 میں حیدر پورہ بائی پاس پرہونے والے ایک اور انکاونٹرجس میں ایک مقامی ڈاکٹرمدثر گل کے ساتھ ساتھ رام بن کا ایک نوجوان چوکیدار محمد عامر اور برزلہ کے رہائشی محمد الطاف بٹ نامی اشخاص کی جانیں چلی گئیںتھیں، کی جانب تھا۔واضح رہے کہ سخت احتجاج کے بعد مذکورہ تصادم میں ہلاک کئے گئے ڈاکٹر مدثر گل اور برزلہ کے مقتول محمد الطاف بٹ کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں لیکن بانہال کے محمد عامر کی نعش عدالتی مداخلت کے بعد بھی واپس نہیں کی گئی۔

بہرحال فوجی عدالت کی جانب سے امشی پورہ فرضی تصادم میں ملوث آفیسر کےلئے سزا تجویز کرکے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ اس قسم کے انسانی اور قانونی اقدامات مستقبل میں بھی اٹھائے جاتے رہیں گے تاکہ عدل و انصاف کا بول بالا ہوسکے۔

 

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں کشمیرمیں خواتین ملازمین کو زچگی کےلیے خصوصی چھٹی دینے کا فیصلہ

Next Post

کالا جادو: اخلاقی بگاڑ اور ناپاک عمل

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کھیلے گا، مگر بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گا

ہندوستان کے ساتھ میچ کھیلنے پر از سر نو غور کرنے کے لیے پاکستان راضی

07/02/2026
اسلام آباد دھماکہ:اسلامک اسٹیٹ آف پاکستان نے لی ذمہ داری، حملہ آور کی شناخت، پشاور میں تین مشتبہ ملزمان گرفتار

اسلام آباد دھماکہ:اسلامک اسٹیٹ آف پاکستان نے لی ذمہ داری، حملہ آور کی شناخت، پشاور میں تین مشتبہ ملزمان گرفتار

07/02/2026
جموں و کشمیر میں نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: عمر عبداللہ

جموں و کشمیر میں نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: عمر عبداللہ

07/02/2026
افسران عوامی نمائندوں کی بات نہیں سنتے، عیدگاہ میں سڑکوں اور پانی کی شدید قلت: مبارک گل

افسران عوامی نمائندوں کی بات نہیں سنتے، عیدگاہ میں سڑکوں اور پانی کی شدید قلت: مبارک گل

07/02/2026
اسلام آباد دھماکہ : بھارت نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کر دیا

اسلام آباد دھماکہ : بھارت نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کر دیا

07/02/2026
پاکستان میں  مسجد پر خودکش حملہ، 31 افراد جاں بحق، 169 زخمی

پاکستان میں مسجد پر خودکش حملہ، 31 افراد جاں بحق، 169 زخمی

06/02/2026
Next Post
کالا جادو: اخلاقی بگاڑ اور ناپاک عمل

کالا جادو: اخلاقی بگاڑ اور ناپاک عمل

امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی عدالت کی جانب سے ملوث کیپٹن کےلئے عمر قید کی سزا تجویز

شرم اب ہمیں نہیں آتی!

امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی عدالت کی جانب سے ملوث کیپٹن کےلئے عمر قید کی سزا تجویز

الجزائر: بچی پر جادو ٹونے کی مبینہ کوشش کی تحقیقات

امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی عدالت کی جانب سے ملوث کیپٹن کےلئے عمر قید کی سزا تجویز

ایران: لڑکیوں کو زہر دیے جانے کے واقعات کے بعدگرفتاریاں

امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی عدالت کی جانب سے ملوث کیپٹن کےلئے عمر قید کی سزا تجویز

بیٹی کی شادی پرباپ کی طرف سے حیران کن پیغام

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »