کچھ دنوں پہلے23اساتذہ کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا۔ وجہ وہی دھاندلی اور فرضی اسناد۔ ہمیں اب شرم سے ڈوب کر مرنا چاہیے۔ اساتذہ جو قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر ایسے گناہوں میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو یہ ہماری کھوکھلے پن واضح نشانی ہے۔ یہ اساتذہ ان Boards سے اپنی دسویں اور بارویں کے امتحانات پاس کر کے آتے ہیں جن کی کوئی بھی سرکاری شناخت نہیں ہے۔ دیگر الفاظ میں یہ دھاندلی کا بڑا جال ہے جو جموں و کشمیر کے کونے کونے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب پڑھائی کا اصل مقصد ہی فوت ہوچکا ہے۔ اس پڑھائی کا کیا فائدہ جس میں محنت ضائع مگر دھاندلی بازی لے جائے۔ اس ماحول میں کس کو شوق ہوگا کہ وہ ایسی تعلیم حاصل کرے جو بمعنی ہوکر رہ گئی ہے۔ ان ملازمین پر مجھے حیرانگی ہوتی ہے جو دعوے تو شفافیت کا کرتے ہیں مگر خود گندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کیسے یہ ضمیر فروش زندہ ہے! معلم کا لبادہ اوڑھ کر درندوں جیسے کام کرتے ہیں۔ اب اساتذہ لفظ سے ہی گن آنے لگے ہے۔
اس صورتحال کے پیچھے بہت سارے وجوہات کا عمل ددخل ہیں۔ پہلا ہے مادیت۔اس دوڑ نے حلال و حرام کی لکیر کو ہی ختم کر دیا ہے۔ زمین، پیسے، اقتدار، گاڑیاں، وغیرہ نے انسان کو جانور بنا دیا ہے۔ یہ اساتذہ بھی اسی ناؤ میں سوار ہے۔ کچھ دنوں کی خوشیوں کے لئے اور کچھ لوگوں کو حسین خواب دکھانے کے لئے، یہ لوگ انسانیت کا گلا ہی گھونٹ دیتے ہیں۔ ان جیسے لوگوں کی وجہ سے حقدار اپنے جائز حق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان 23 ملازموں نے23 سے زیادہ حقدار گھرانوں کو زندہ مار دیا۔ آج کے زمانے میں نوکری ملنا لگ بھگ محال ہوگیا ہے۔ اور اس کے بعد کسی کو اپنے حق سے محروم کر دینا، سوچ سے بالاتر ہے۔ یہ وارداتیں گناہوں کا باعث بنتی ہیں۔ منشیات کی لت بھی ان غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ ہے۔
دوسرا ہے آخرت فراموشی۔ دنیا کی رنگینیوں میں ہم اتنے محو ہوچکے ہیں کہ اب ہمیں آخرت کی فکر نہیں رہی۔ہمیں لگتا ہے کہ دھاندلی کرکے ہم یہاں سکھ اور چین سے جی لینگے۔ ہر طرح کی زینت سے لطف اندوز ہوکر ہم کل کو بنا پرسش کے نکل جائے گے۔ نہیں، یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ اللہ ہم سے اس بابت ضرور پوچھے گا۔ ان23 چوروں نے بہت سارے لوگوں کی زندگیوں میں پریشانیوں کا نہ تھمنے والا سلسلے کو جنم دیا ہے۔ مظلوموں کی بددعا ان درندوں کو ضرور لگے گے۔ اصل میں جیسے کہ پہلے بھی کہا گیا ہے کہ اب یہاں گناہ گناہ نہیں لگتے ہیں۔ جس کو جس طرح لوٹنا آتا ہے، وہ لوٹتا ہے۔ کوئی علم کے نام پر، کوئی مذہب کے نام پر، کوئی سیاست کے نام پر،وغیرہ ۔غرض ہر کوئی دوسرے کو یہ سوچ کر لوٹ رہا ہے کہ جب وہ لوٹ رہا ہے، تو میں نے کونسا گناہ کیا! اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو گنے چنے مخلص افراد ہیں وہ بھی اب بہت سارے مشکلاتوں میں پھنس چکے ہیں۔ ایک طرف اصول مگر دوسری طرف دھوکہ دہی کا بازار گرم ہے۔
تیسرا ہے دکھاوا۔ جب دوسرے اساتذہ نے شاندار محل تعمیر کیے، تو یہ23کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ جعلی اسناد لے کر سالوں سال تک حرام کی تنخواہ لیتے رہے۔ ان پیسوں سے بڑے بڑے مکان تعمیر کیے۔ گاڑیاں خریدی اور زمینیں بھی وافر مقدار میں اپنے نام کیں۔ اس سے ان پر عزت کے پھول نچھاور کیے گئے۔ مگر جو اس کے حقدار تھے، وہ یا تو مر گئے ہیں یا پھر ذہنی امراض کے شکار ہیں! وہ خود کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی بھوج ہے۔ واہ! اگر اس چیز کا نام علم ہے، تو اس عمل سے بہتر ہے کہ انسان اَن پڑھ ہی رہے۔
اس سے نپٹنے کے بہت سارے طریقے ہیں۔ سب سے پہلا ہے سرکاری قوانین کو من و عن لوگو کیا جائے۔ ایسا نظام ترتیب دیا جائے کہ جعلی ڈگریوں والے لوگ محکمہ تعلیم میں داخل نہ ہوسکے۔ اور جو کوئی بھی اس میں ملوث پایا جاتا ہے اس کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ دوسرا ہے اعلیٰ افسران کی تقرری شفافیت پر مبنی ہوں۔ یہی اعلیٰ افسران چوری کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ضمیر کو زندہ رکھے، تو وہ علم کے نام پر چوری کو فروغ نہیں دے گے اور قوم کی جڑوں کو تباہ و برباد نہیں کرے گے۔ تیسرا ہے اپنے آپ سے پوچھنا کہ میں جو یہ دھاندلی کر رہا ہوں کیا یہ ٹھیک ہے۔ میں مت کسی کی دنیا کو آگ لگا کر اپنی دنیا روشن کر رہا ہوں۔ کچھ سالوں تک تو میں آرام سے جی لوں گا، لیکن جب مجھے اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا، وہاں کیا! یہ صفت اس گناہ کو روک سکتی ہے۔ اگر ایک پڑھا لکھا یہ سوچے کہ میں نے کیوں پڑھائی حاصل کئی، اس کو یہ احساس ضرور ہوگا کہ میں دھاندلی نہیں کرسکتا ہوں۔
وقت کی ضرورت ہے کہ چوروں کو ہر ڈیپارٹمنٹ سے باہر کا دروازہ دکھایا جائے؛ اعلیٰ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ جس جس سرکاری شعبے میں جہاں جہاں چوروں کو براجمان رکھا گیا ہے ،ان کا محاسبہ کیا جائے ۔ یہاں کوئی بھی Recruitment شفاف طریقے پر نہیں ہورہی ہے۔ ہر Recruitment میں چوروں کی تاناشاہی ہے۔ حق داروں کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ ذی حس اشخاص کو بھی اس کار خیر میں آگے آنا ہوگا۔ اس کے علاوہ مولوی حضرات کو بھی فروعی مسائل سے اب زیادہ اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اور یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔










