(الجزائر)الجزائر میںا سکول کے احاطے میں ایک بچی کو سوئیاں چبھونے کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے۔ دوسری طرف والدین اس واقعے کے بعد پریشان اور خوف زدہ ہیں۔میڈیا خبروںکے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک اسکول کی طالبہ کو دو خواتین کی جانب سے گاڑی کے ذریعے اغوا کرنے کی کوشش کے بارے میں معلومات گردش کرنے لگیں۔ یہ واقعہ ریاست عین الدفلی کی میونسپلٹی العطاف میں واقع ایک ا سکول کے احاطے میں پیش آیا۔اسکول کی بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد سٹی کورٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ مبینہ طور پر ایک جادوگری کا کیس ہے جس میں دو خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ خواتین کے قبضے سے سوئیاں اور بال ملے ہیں جب کہ ان کے ایک تیسرے ساتھی جادوگرکو بھی تلاش کر لیا گیا ہے۔تفتیشی جج نے دو ملزمان کو عارضی حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا جب کہ تیسرے ملزم کو جوڈیشل کنٹرول سسٹم کے تحت رکھا گیا۔ملزمان پر عوامی سڑک پر نقل و حمل کا ذریعہ اور جادو ٹونے کا لالچ دے کر یا کسی بچے کو اغوا کرنے کی کوشش کے جرم کا الزام عائد کیا ہے۔ ملزمان کے خلاف قانون نمبر 20/15 کے آرٹیکل 28، 33 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔الجزائرکے موقر جریدے ’الخبر‘ نےاپنے حالیہ شمارے میں اس موضوع پر طویل مضمون مختص کیا، جبکہ اس نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سکیورٹی کا حوالہ دیا۔کمیونیکیشن اینڈ پبلک ریلیشن سیل کے سربراہ کے مطابق ریاست الجزائر کی سکیورٹی کے لیے پولیس گورنر آمال ہاشمی نے کہا کہ ایکیو پنکچر کے اس واقعے میں کسی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔پولیس اس واقعے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہے۔











