امت نیوز ڈیسک //
سری نگر // نیشنل کانفرنس سے وابستہ سر کردہ لیڈران، عہد یداران اور کارکنان کے علاوہ معزز شہریوں نے آج عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کےبعد وطن واپسی پر ڈاکٹر فاروق عبد الله (رکن پارلیمان ) کا سری نگر ائر پورٹ پر گرم جوشی سے استقبال کیا اور بعد میں پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی رہائش گاہ واقع ائر پورٹ روڑ پر ایک مختصر تقریب کا بھی انعقادہوا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ان کا استقبال کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت سخت ترین دور سے گزر رہا ہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب تمام سیاسی اور نظریاتی اختلافات بالائے طاق رکھ کر اپنی ریاست کے خصوصی درجے کی بحالی کیلئے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک اور مشکل ترین دور سے نجات کار از اتحاد و اتفاق میں ہی ممکن ہے اور جموں و کشمیر کے ہر ایک پشتینی باشندے کو ثابت قدم، پر عزم اور یک زبان ہونے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جموں و کشمیر کی شناخت، سالمیت، وحدت، انفرادیت خصوصاً بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہمارے لئے موت وحیات کا سوال ہے۔ ہمیں اپنے تہذیب و تمدن، کلچر کے علاوہ ان چیزوں کی رکھوالی کرنے ہے ، جو کشمیریوں کو خاص بناتی ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ موجودہ درآمدہ شدہ حکمران اقتدار میں نشے میں اتنے محو ہے کہ ان کے کانوں تک لوگوں کی حق کی آواز نہیں پہنچ رہی ہے۔ ایسے میں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم لوگوں کیساتھ زیادہ سے زیادہ رابطہ بنائے رکھیں اور ان کی آواز بن کر انہیں راحت پہنچانے کی کوشش کریں۔ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے پارٹی لیڈران ، عہد یداران اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اپنے آپ میں خود اعتمادی اور خدا اعتمادی کا جذبہ پیدا کر کے قوم و ملت کی خدمت میں ج بلیٹ جائیں اور اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کو مضبوط بنانے کیلئے دن رات کام کریں۔ نیشنل کانفرنس کی طرف نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی رغبت کو خوش آئند ہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے، موجودہ دور میں نوجوانوں کو سب سے زیادہ مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔









