وادیٔ کشمیر میں اگر کچھ سال پیچھے کی طرف جائیں تو سال میں اکا دکا قتل کی وارداتیں یا پھر ایک آدھ کوئی بڑا جرم خبروں میں آتا تھا۔لیکن اب ویسا کچھ نہیں رہا، کشمیر اب بدل چکا ہے۔وادیٔ کشمیر میں اب ہماری سماعتوں تک یہی باتیں پہنچ رہی ہیں کہ کشمیرمیںبھی اب دیگر بڑے شہروں کی طرح جرائم زیادہ پیش آرہے ہیں۔کشمیر میں پچھلے کچھ ماہ سے قتل کےایسے واقعات سننے کو مل رہے ہیں کہ جن سے زمین بھی کانپ اٹھتی ہو گی۔اس طرح کے واقعات شائد ہی وادیٔ کشمیر کی تاریخ میں کبھی پیش آئے ہوںگے۔
وسطی ضلع بڈگام کے سویہ بگ علاقےکا واقعہ آپ کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک درندہ صفت انسان نے کیسے ایک خاتون کو قتل کر کے اسکے جسم کے ٹکڑے کیے اور پھر وہی جسم کے اعضاءالگ الگ جگہ پھینک دئے۔ اس واقعہ نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا۔اس واقعے سے کچھ روز قبل بڈگام کے ہی نصراللہ پورہ علاقے میں دن دھاڑے ایک شخص نے دوسرے شخص پر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے اسے موت کی ابدی نیند سلا دیا۔ روح کو کانپنے والے یہ واقعات خبروں میں ہی تھے کہ وادی میں پھر سے ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا جہاں دو قتل کی وارداتیں شمالی کشمیر کے کپوارہ اور سوپور سے سامنے آئیں۔یہ واقعات 29 مارچ کی دیر رات کو خبروں میں آئے۔کپواڑہ میں دل دہلا دینے والے واقعہ میں محض ایک آٹھ سالہ بچی کا گلا کٹی لاش ایک لکڑی کے شیڈ سے برآمد کی گئی۔لیکن اس قتل معاملے نے مکہ کے دور جہالت کی یاد تازہ کرائی کیوں کہ اس معصوم بچی کا قاتل اسکا باپ ہی نکلا۔اس کیس کی تفتیش کے بعدایس ایس پی کپواڑہ یوگل منہاس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بچی کے والد محمد اقبال کھٹانہ نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ کھٹانہ کے اپنی اہلیہ کےساتھ پچھلے ایک سال سے تعلقات خراب تھے اور اس روز بھی انکا جھگڑا ہوا اور بیوی نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا۔ملزم کھٹانہ کچن سے چاقو اٹھا کر اپنا کام تمام کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا لیکن جب اسکی بیٹی اسکے ساتھ چلی گئی تو اس نے پہلے اسی کا گلا دبا کر اسکا قتل کیا اور پھر لاش کو ٹھکانے لگانے کی پریشانی نے اپنا آپ ختم کرنے کا ادارہ اس نے ترک کر دیا۔اور پھر سنگدل باپ نے بیٹی کا گلا بھی کاٹا تاکہ اس پر کسی کا شک نہ ہو۔
کپواڑہ میں پیش آئے اس واقع کی رات کو ہی ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبے میں ایک قتل کا معاملہ سامنے آیا جہاں مبینہ طور پرایک بیٹے ہی نے اپنی اس ماں کا قتل کر ڈالا جس نے اسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں پالا اور پھر چلنا پھرنا اور بولنا سیکھایا تھا۔’’اُمت نیوز‘‘ نے جب جائے وقوعہ کا دورہ کیا تو وہاں متوفی بزرگ خاتون جس کی عمر 70سال کے قریب بتائی جا رہی ہے‘ کے رشتہ داروں نے بتایا کہ 29 مارچ کی رات کو متوفی خاتون کے چھوٹے بیٹے شوکت احمد گنائی نے ماں کا گلا دبا کر اسکا قتل کر ڈالا اور پھر لاش کو گھر کے پاس ہی ایک کنویں کے قریب چھپایا۔اس کے بعدقریبی فوج کیمپ پر فون کر کے گھر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی جھوٹی اطلاع بھی دی۔فی الحال پولیس اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے ۔تاہم شوکت کے متعلق کچھ متضاد بیانات بھی سامنے آئے ۔متوفی خاتون کے بڑے بیٹے کا کہنا ہے کہ اسکا چھوٹا بھائی منشیات کا عادی ہے اور اسے انسدادِ منشیات مرکز بھی لے جایا گیا تاہم وہ پھر بھی نشے سے باز نہیں آیا۔وہیں انہوں نے کہا کہ اس نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ رہنے کی منت بھی کی لیکن وہ نہیں مانی اور اپنے چھوٹے بیٹے کےساتھ ہی رہ رہی تھی۔ کچھ مقامی افراد نے بھی کہا کہ وہ منشیات کا عادی ہے ۔تاہم ایک شخص کا کہنا تھا کہ شوکت اب نشہ نہیں کرتا تھا اور اسے اس رات کیا ہوا ہمیں اسکا اندازہ نہیں۔دوسری طرف سے شوکت کی جانب سے اپنے بڑے بھائی پر ہی والدہ کو قتل کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔اسکے بڑے بھائی نے کہا کہ” تھانے میں شوکت نے اس پر حملہ بھی کیا اور قتل کا الزام بھی پر لگایا “۔
ان دردناک واقعات سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں اننت ناگ کے عشمقام میں ایک شخص نے علی الصبح کئی افراد پر تیز دھار والے ہتھیار سے بغیر کسی اشتعال کے حملہ کیا جس میں اسکی والدہ سمیت تین افراد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔اگرچہ انتظامیہ نے حملہ کرنے والے شخص جس کی شناخت شوکت حسن راتھر کے طور ہوئی‘ کو” دماغی طور خاص“قرار دیاتاہم مقامی لوگوںکے مطابق ملزم نانبائی کی دکان چلاتا ہے لیکن شراب کا عادی بھی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس روز بھی وہ نشے میں تھا۔
ان دلدوز قتل کی وارداتوں سے ایک حدیث یاد آتی ہے جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ لوگوں پر ایسا دن نہ آجائے، جس میں نہ قاتل کو یہ علم ہو گا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور نہ مقتول کو یہ خبر ہو گی کہ وہ کیوں قتل کیا گیا۔ عرض کیا گیا: (یارسول اللہ!) یہ کیسے ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بکثرت کشت و خون ہو گا، قاتل اور مقتول دونوں (اپنی بدنیتی اور ارادے کی وجہ سے) دوزخ میں ہوں گے۔
وہیں ان واقعات سے کئی چیزیں سامنے نکل کر آرہی ہیں پہلی یہ کہ وادیٔ کشمیر میں خواتین پر پچھلے کچھ سالوں میں گھریلو تشدد اور گھر سے باہر ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔نیشنل کرائمز ریکارڈز بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق 2020کے مقابلہ میں 2021میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں کشمیر میں 15فیصد اضافہ دیکھا گیا۔2020میں 33937 جرائم کے واقعات کے مقابلے میں 2021میں یہ 3405 تک پہنچ گئے ۔نابالغ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں گزشتہ چند برسوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، صرف سال 2022 میں ایسے چار واقعات درج ہوئے جہاں مجرم کے ہاتھوں نابالغ لڑکیوں کو حاملہ کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں عصمت دری کے 315، عصمت دری کی کوشش کے 1414 واقعات اور جہیز کے لیے 14 ہلاکتیں درج کی گئیں، اور اتفاق سے عصمت دری میں ملوث 91.4 فیصد ملزمان متاثرہ کے جاننے والے تھے۔دوسرا یہ کہ ان واقعات میں مماثلت یہ پائی گئی ہے ان مجرموں کو انجام دینے والے منشیات کے عادی بھی تھے۔ جموں و کشمیر میں منشیات کی لت میں ملوث ہونے والے افراد کی تعداد تشویشناک طور پر 10لاکھ کے قریب ہو گئی ہے۔حال ہی میں مرکزی وزارت برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات نے پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا ممبر حسنین مسعودی کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ اعدادوشمار پیش کئے۔اعدادوشمار کے مطابق ان دس لاکھ میں سے 54ہزارخواتین بھی ہیں۔اس سے بھی بڑی تشویش کی بات یہ کہ انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (IMHANS)، سرینگر کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جموں و کشمیر نے منشیات کے استعمال کے معاملے میں پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔وہیں تیسری اہم بات یہ کہ کیا علمائے کرام اور اسلامی اسکالرز اخلاقی پستی سے کشمیر کے معاشرے کو نکالنے کےلیے کیا کوششیں کر رہے ہیں ؟ جواب ملے گا کہ کچھ بھی نہیں۔ان واقعات کے بعد شائد ہی کوئی ایسی مسجد ہو جہاں خطیب نے ان گھناونے معاملات پر بات کی ہو، قرآن و سنت کی روشنی میں نشے کے نقصانات گنوائے، ایک باپ سے کہا ہو کہ وہ بیٹے پر نظر کیسے رکھے، سامعین کو سیکھایا گیا ہو کہ خواتین کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے علماء و خطیب اپنے اپنےعقیدے یا مسلک کو سچااور صحیح جبکہ دوسرے مسلک کو غلط ثابت کرنے کے لیے ہی منبر پر کھڑےہورے ہیں۔مبلغین کو اب ان مسلکی مسائل، ایک دوسرے کوغلط صحیح ٹھہرانے کے بجائے مساجد کے منبروں کو معاشرے کو سدھارنے کےلیے استعمال کرنا چاہیے۔تاکہ ہمارے سماج میں جو اخلاقی پستی پیدا ہوئی ہے اسے ختم کیا جا سکے۔










