کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ یہ ایمان، تہذیب، قربانی اور دینی شعور کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس سرزمین نے ہمیشہ علمائے حق کو اپنا رہنما مانا ہے، ان کے احترام کو اپنا وقار سمجھا ہے اور دینِ حق کے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنا فریضہ جانا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی فرد، خواہ وہ کسی بھی پیشے یا عہدے سے تعلق رکھتا ہو، علمائے کرام کی شان میں نازیبا، غلط اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرے، تو یہ صرف ایک فرد کی بات نہیں رہتی بلکہ پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر سندیپ ماؤا کی جانب سے ڈاکٹر مولانا غلام رسول حامی صاحب—جو نہ صرف ایک جید عالمِ دین ہیں بلکہ اخلاق، علم اور وقار کی پہچان ہیں—کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ کشمیری قوم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ محض ایک شخصیت پر حملہ نہیں بلکہ دینی اقدار، اسلامی شعور اور اس علمی روایت کی توہین ہے جس نے صدیوں سے اس معاشرے کو روشنی دی ہے۔
مولانا غلام رسول حامی صاحب جیسے علماء نے کبھی نفرت، تفرقہ یا فساد کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ہمیشہ امن، اخلاق، بھائی چارے اور حق کی بات کی۔ ایسے لوگوں کے خلاف زبان درازی دراصل اس سوچ کی عکاس ہے جو دین سے نابلد اور علم کی حرمت سے ناواقف ہوتی ہے۔ کشمیری قوم واضح طور پر کہنا چاہتی ہے کہ علمائے دین ہمارے سروں کا تاج ہیں، اور ان کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
کشمیر کی سرزمین محض پہاڑوں، وادیوں اور جھیلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان، قربانی، غیرتِ دینی اور علمائے حق سے گہری وابستگی کی علامت ہے۔ اس خطے کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دینِ حق، اس کے علما اور اس کے محافظوں پر آنچ آئی، کشمیری قوم نے خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔ آج ایک بار پھر ایسا ہی لمحہ درپیش ہے، جب ڈاکٹر سندیپ ماؤا کی جانب سے ڈاکٹر مولانا غلام رسول حامی صاحب کے خلاف استعمال کیے گئے غلط، نازیبا اور توہین آمیز الفاظ نے پوری کشمیری قوم کے دلوں کو زخمی کر دیا ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں، نہ ہی یہ محض الفاظ کا اختلاف ہے۔ یہ دراصل اس مقدس طبقے پر حملہ ہے جس نے صدیوں سے اس معاشرے کو دین، اخلاق، تہذیب اور شعور کی روشنی عطا کی۔ مولانا غلام رسول حامی صاحب جیسے علما کسی فرد یا جماعت کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ وہ اس دینی وراثت کے امین ہیں جو ہمیں قرآن و سنت سے جوڑتی ہے۔ ان کی توہین دراصل اس علم کی توہین ہے جس پر ہمارا ایمان قائم ہے۔
ڈاکٹر سندیپ ماؤا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر کوئی بے حس معاشرہ نہیں جہاں علما کے خلاف زہر اُگل دیا جائے اور قوم خاموش رہے۔ یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ علما ہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں قوم نے اندھیروں کا مقابلہ کیا، آزمائشوں میں صبر سیکھا اور باطل کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔ ایسے میں کسی عالمِ دین کے خلاف بدزبانی کرنا کشمیری غیرت کو للکارنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے، کسی عہدے پر فائز ہونا یا کسی ادارے سے وابستہ ہونا اسے اخلاقی دیوالیہ پن کی اجازت نہیں دیتا۔ علم اگر انسان کو عاجزی نہ سکھائے تو وہ علم نہیں بلکہ تکبر بن جاتا ہے۔ اور جو شخص تکبر کے نشے میں علمائے حق کی تضحیک کرے، وہ دراصل اپنے کردار کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
مولانا غلام رسول حامی صاحب نے ہمیشہ اتحاد، اصلاح، امن اور دین کی سربلندی کی بات کی ہے۔ ان کی زندگی علم، تقویٰ اور خدمت سے عبارت ہے۔ ایسے بزرگ عالم کے خلاف نازیبا الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ بولنے والا نہ علم کی حرمت جانتا ہے اور نہ ہی اس سرزمین کے جذبات سے واقف ہے۔ کشمیری قوم یہ اعلان کرتی ہے کہ ہم اپنے علما کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
آج یہ صرف ایک عالم کا مسئلہ نہیں، یہ پوری امت کا سوال ہے۔ اگر
آج ہم خاموش رہے تو کل ہر وہ شخص نشانہ بنے گا جو دین کی بات کرے گا، جو حق بولے گا، جو معاشرے کو آئینہ دکھائے گا۔ اسی لیے آج بولنا فرض ہے، آج للکارنا ضروری ہے، آج خاموشی جرم ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر سندیپ ماؤا اپنے بیان پر غیر مشروط معافی مانگیں، اپنے الفاظ واپس لیں اور آئندہ علمائے دین کے خلاف زبان درازی سے باز رہیں۔ ساتھ ہی سماج کے ذمہ دار طبقات، دینی اداروں اور عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کریں تاکہ یہ پیغام جائے کہ کشمیر میں علمائے حق کی توہین کی کوئی گنجائش نہیں۔
آخر میں ہم پورے یقین، فخر اور ایمان کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ دینِ حق کے علما پر ہماری جان بھی قربان ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ کشمیر نے ہمیشہ علما کا احترام کیا ہے، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ جو اس حقیقت کو چیلنج کرے گا، اسے کشمیری قوم کے اجتماعی شعور، اتحاد اور غیرت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ پیغام واضح، دوٹوک اور ناقابلِ تردید ہے: علمائے حق کی عزت ہماری سرخ لکیر ہے، اور اس لکیر کو پار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ڈاکٹرکا لقبملنا ہونا اپنی جگہ ایک بڑی بات ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی شخص سماجی، اخلاقی اور دینی حدود کو پامال کرے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے ایمان، عقیدے اور دینی شخصیات کو نشانہ بنایا جائے۔ ایسی حرکتیں معاشرے میں نفرت اور انتشار کو جنم دیتی ہیں، جن کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ڈاکٹر سندیپ ماؤا اپنے الفاظ پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی غلطی کو تسلیم کریں اور علانیہ معذرت کریں۔ ساتھ ہی ذمہ دار اداروں اور سماج کے بااثر افراد کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے رویّوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص علمائے حق کے خلاف زہر اگلنے کی جرأت نہ کر سکے۔
ہم صاف اور دوٹوک انداز میں کہنا چاہتے ہیں کہ دینِ حق کے علماء پر ہماری جان بھی قربان ہے—یہ کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک اجتماعی شعور ہے۔ کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں علمائے کرام کے احترام پر کبھی آنچ نہیں آنے دی گئی، اور آئندہ بھی ایسا ہونے نہیں دیا جائے گا۔
آخر میں ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اختلاف ہو سکتا ہے، سوال ہو سکتے ہیں، مگر توہین، تضحیک اور بدزبانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر معاشرے کو آگے بڑھانا ہے تو علم، ادب، احترام اور مکالمے کی راہ اپنانی ہوگی—ورنہ تاریخ ایسے ناموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو علمائے حق کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوں۔









