اللہ بزرگ وبرتر نے انسان کو تمام مخلوقات میں سے بہتر،افضل اور مشرف بنا کر اشرف المخلوقات crown of creatures کے اعلی منصب پر فائز کیا ہے بعض امور میں یہی انسان فرشتوں سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر باقی مخلوقات کی نسبت میں احساسات وجذبات کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے جس کی بنا پر یہ دوسروں کے دکھ درد، خوشی ومسرت، غم و الم اور سکون و راحت کو محسوس کر سکتا ہے۔ اللہ بزرگ وبرتر نے اس انسان میں باقی مخلوقات کے مقابلے میں سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھی ہے اصل میں یہی فرق اس نا چیز کو باقی تمام تر مخلوقات سے الگ کرتی ہے اسی میں یہ قابلیت پایی جاتی ہے کہ یہ آزادانہ طور پر کسی بھی چیز پر اپنی رائے صادر کر سکتا ہے۔
شاعر نے اس کو یوں بیان کیا ہے کہ
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
اللہ رب العزت نے فرشتوں کو نور سے تخلیق کر کے اپنے اپنے مقررہ کاموں پر تفویض کیا ہے۔ فرشتے جن جن کاموں پر معمور کیے گئے وہ ان کاموں کو کرنے میں انحراف نہیں کرتے بلکہ پوری ذمے داری کے ساتھ تا قیامت ان کاموں کو بخوبی انجام دینے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں کیونکہ انسانوں کے مقابلے میں وہ بہت سے معاملات میں آزاد اور معصوم ہیں۔ فرشتے نہ کھاتے پیتے ہیں نہ شادی کرتے ہیں اور نہ ہی بشری عیوب رکھتے ہیں۔ دوسری جانب آدم علیہ السلام کی اولاد (انسان) فرشتوں کے منصب سے بہت آگے نکل سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ ایسے کام انجام دیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق ہوں۔
اگر تاریخ کے اوپر نظر دوڑائیں اور زمانے کے اوراق کو کھنگالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جا ئے گی کہ انسان نے عصر حاضر میں جتنی ترقی اور ایجادات کیں اس سے پہلے بنی نوع انسان ان چیزوں سے بالکل بے خبر تھا۔ اس انسان نے اللہ جل جلالہ کی عطا کردہ عقل و دانش کے ساتھ قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے ایسے رموز سے پردہ اٹھایا ہے کہ ایک عام انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ آیے روز ایسی ایسی ایجادات رونما ہوتی ہیں کہ انسان اپنی بینائی اور گویائی پر شک کرنے لگتا ہے لیکن سچ یہی ہے کہ انسان نے خدایے برتر کی زمین کو چاک کر کے ایسی چیزیں وجود میں لایی جن سے اس کی زندگی آسان سے آسان تر ہو گیی۔ وہ مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں گھنٹوں کی مسافت منٹوں میں طے کرنے لگا۔ کتابوں کی کتابیں ایسی ایجادات سے بھری پڑی ہیں جن سے انسان لا یزال فاہدہ اٹھا سکتا ہے۔۔
سائنس کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت انسان کسی دوسرے انسان کا محتاج نہیں رہا۔ ایک زمانہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ انسان اکیلے زندگی بسر نہیں کر سکتا لیکن ان ایجادات میں سے ایک موبائل فون ایسی ایجاد ہے جس نے آج کل کے انسان کو باقی انسانوں سے لا تعلق سا کر دیا ہے ایک طرف یہی ایجاد اس انسان کو باقی دنیا سے با خبر رکھتی ہے لیکن دوسری طرف اپنے گھر کے باورچی خانے میں اپنے خاندان کے افراد سے کوسوں دور رکھتی ہے۔
ان ساینسی ایجادات نے انسان کو اپنے مقام سے گرادیا ہے۔ اس کو چاہیے تھا کہ دن رات خالقِ کائنات کی مہربانیوں اور انعاموں پر تشکر کرے لیکن ان ایجادات نے اس کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی جس سے یہ سچایی نہیں دیکھ سکتا، اس کے کانوں پر ایسا پردہ پڑگیا ہے کہ یہ سچایی کو سن نہیں سکتا،اس کے دل کو اس قدر محصور کر دیا ہے کہ یہ محسوس نہیں کر سکتا۔
اللہ بزرگ وبرتر نے جس مقصد کے لیے اس انسان کا انتخاب کیا تھا وہ مقصد اس سے چھینا گیا اور یہی انسان بے لگام گھوڑے کی کی طرح اپنے نفس اور خواہشات نفس کی پیروی کرنے میں مست و مگن نظر آ رہا ہے۔ کسی بھی صاحب علم کو ان ایجادات سے سروکار نہیں ہو سکتا لیکن جس قدر بنی نوع آدم کی ذندگی آرام دہ بنتی گیی اسی تیز رفتاری سے یہ اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی اور نا شکری کرتا گیا اور اپنے منصب و مقصد کو اپنے پاؤں تلے روندتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پوری انسانیت بالعموم اور مسلمان طبقہ بالخصوص سکھ چین سے عاری نظر آ رہا ہے۔ تمام تر سہولیات ہونے کے باوجود بھی سکون کے دو پل کو ترس رہا ہے۔ ہر ایک انسان کے ہاتھ میں موبائل فون تو ہے لیکن اسی موبائل فون کی بدولت اس کی ہستی کھیلتی دنیا اجڑ کے رہ گیی ہے۔ زمانہ ترقی کر رہا ہے لیکن انسانیت کے ساتھ ساتھ خوشحالی،امن، سکھ چین، پیار محبت اور سکون و اطمینان کا جنازہ نکل رہا ہے ہر آنے والے دن کے ساتھ ہی انسان کا حال برا ہوتا جا رہا ہے اور وہ زندگی سے زیادہ موت کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس پستی کی وجہ یہی ہے کہ وہ ان سب امور کو بھول چکا ہے جن کی بنا پر یہ فرشتوں سے بھی افضل بن سکتا تھا۔۔۔









