امت نیوز ڈیسک //
سری نگر،//جموں سرینگر شاہراہ ہر وادی کی طرف بھیڑ،بکریوں کو لے جانے والے ٹرکوں کے 48 گھنٹے سے زیادہ وقت تک درماندہ ہونے سےوادی کے مٹن ڈیلروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔
آل کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ بھیڑ بکریرکو لے جانے والے ٹرکوں کو روکنا ’غیرضروری‘ ہے اور وہ ٹریفک پولیس کے از تازہ رویہ پر حیران ہیں۔
آل کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا "ہم نے ایس ایس پی ٹریفک نیشنل ہائی وے کو فون کیا۔ کوئی جواب نہیں آیا، یہاں تک کہ ایس ایس پی ٹریفک نے بھی ہمارے تحریری پیغامات کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی،” انہوں نے مزید بتایا کہ کنٹرول روم کے اہلکاروں نے بھی ان کی بات نہیں سنی۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ بھیڑ،بکرہیوں سے لدی کو کم از کم 48 ٹرکوں کو ڈھور روڈ پر ادھم پور کے قریب روکا گیا۔
انہوں نے کہا "بار بار کی درخواستوں کے باوجود، ڈرائیوروں کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔”
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ہر ٹرک میں 2 سے 3 بھیڑوں کی موت واقع ہوئی۔
ان کا کہنا تھا”ٹرکوں کے ‘غیر ضروری’ رکنے کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 25 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ 48 گھنٹے سے زیادہ رکنے کے بعد، ان ٹرکوں کو منگل کی شام 5 بجے وادی کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری ارون کمار مہتا نے حال ہی میں حکام کو قومی شاہراہ پر ٹرکوں کی
نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے حکام سے کہا تھا کہ وہ ہائی وے پر کسی ٹرک کو نہ روکیں۔
آل کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ایک ممبر، معراج الدین گنائی نے کہا، "مجھے کئی پارٹیوں کو گوشت سپلائی کرنا تھا لیکن ایسا کرنے میں ناکام رہا، کیونکہ سپلائی وقت پر نہیں پہنچی۔”
انہوں نے کہا کہ مٹن ڈیلرز کو مسلسل بھاری نقصان کا سامنا ہے کیونکہ حکام کے ناروا رویہ کی وجہ سے یہ کاروبار نفع کی بجائے خسارے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ ناشری کے قریب یک طرفہ ٹریفک کی وجہ سے ٹرک روکے گئے ہیں کیونکہ یہاں پسیاں گر آنےکا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ہم ناشیری کے قریب دو طرفہ ٹریفک کی اجازت دیتے ہیں تو ٹریفک جام ہو جائے گا اور اس سے جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔”









