مسلسل بارشوں کے نتیجے میں شمالی کشمیرکے ضلع بارہمولہ کے کنڈی علاقےمیںکئی گاؤں سے زمین کھسکنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔وہیںضلع کے شرپورہ گاؤں میں زمین دھنس جانے کی اطلاعات ہیں۔مقامی لوگوںکے مطابق اس گاوں میں2017 سے زمین دھنسنا شروع ہوئی اوراب تک لگ بھگ 50 مکانات زمین بوس ہوگئے۔ ’’اُمت نیوز‘‘ کے نمائندے نےجب علاقے کا دورہ کیا تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ اب مسلسل بارشوں سے مزید 30 رہائشی مکانات میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔جبکہ اس گاوں سے گزرنے والی سڑک بھی دھنس گئ ہے۔گاوں دھنسنے کے بعد کئی کنبے دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبورہو گئے لیکن متعدد ایسے کنبے ہیں جن کے پاس متبادل زمین نہیں تھی اور وہ وہیں شیڈ بنا کر آج بھی بارش اور برف میں انہیں عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جن میں چار بیٹیوں کے باپ محمد مقبول بٹ ہیں جو مزدوری کا کام کرتے ہیں۔ان درجنوں رہائشی مکانات میں ان کا مکان بھی 2019 دھنس گیا تھا۔ لیکن اسکے بعد وہ غربت کے باعثِ مکان تعمیر نہ کر پائے۔ انہوں نے ایک شیڈ بنایا اور پچھلے کچھ سالوں سے اسی میں رہائش پذیر تھے لیکن بدقسمتی یہ کہ پچھلے ہفتوں مسلسل بارشوں کے باعث وہاں بھی زمین دھنس گئ اور انہیں وہ شیڈ بھی خالی کر کے دوسرے شیڈ میں منتقل ہونا پڑا۔ یہی حالت چھ بچوں کے باپ فیاض احمد خان کی ہےجنہوں نے اپنے رہایشی مکان کے لیےپلنتھ ہی تعمیر کیاتھالیکن نتیجہ وہی نکلا زمین پلنتھ کے ساتھ دھنس گئ انہیں بھی دو شیڈ بدلنے پڑے۔اس گاؤں میں زمین دھنسنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور جو مکان اس وقت موجود ہیں ان میں بھی موٹی موٹی دراڑیں پڑ گئی ہیں لیکن ان کنبوں کے پاس کوئی متبادل جگہ نہیں ہےاور وہ مجبور ہو کر انہی گھروں میں رہ رہے ہیںجس وجہ سے یہاں کے باشندے 24 گھنٹے خوف میں جی رہے ہیں۔محمد یوسف میر کے رہائشی مکان میں باہر سے موٹی دراڑیں پڑی ہیں لیکن جو مکان کی حالت ہم نے گھر کے اندر دیکھی وہ دیکھ کر آپ بھی دھنگ رہ جائیں گے۔ ان کمروں کی حالت دیکھ کر آپ اندازہ کریں یہ کنبہ کیسے اس گھر میں رہ رہا ہوگا۔محمد یوسف کے مطابق 2016 میں انہونی نے قرضہ لے کر یہ گھر تعمیر کیا لیکن 2019 سے ہی اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں۔ایسی ہی کچھ حالت دیگر کئی گھروں کی ہے۔









