شاہد لطیف
کشمیر میں سیاحتی سیزن کے اعتبار سے ماہ مئی بہت اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے۔ اس ماہ میں بھارت کے مختلف شہروں کے اندر گرمی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور وہاں سے متمول لوگ کشمیر کی حسین وادی کا رخ کرتے ہیں یا پھر یہاں آنے کےلئے ہوائی جہاز کی ٹکٹوں اور ہوٹلوں کی پیشگی بکنگ کرواتےہیں تاکہ جون جولائی میں ان کی آمد قدرے سستی اور ہموار ہوسکے۔ لیکن امسال یہ صورت حال کافی خراب ہے۔ ہوائی جہازوں کا کرایہ آسمان کو چھو رہا ہے اور بھارت سے باہر جانے کا سفر دہلی سے کشمیر آنے کے سفر سے سستا اور آسان بن چکا ہے۔ ایک حالیہ اخباری خبر کے مطابق سرینگر سے دہلی ہوائی ٹکٹ کی قیمت 26ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔بھارت کی اہم خبر رساں ایجنسی سے منسوب اس خبر کے مطابق ’’گوؤ ائیر‘‘ کے مالیاتی بحران کی وجہ سے فضائی کرایہ آسمان کو چھو رہا ہے۔ جبکہ سرینگر سے دہلی ہوائی ٹکٹ کی قیمت26ہزارتک پہنچی ہے جو دیگر ایشیائی ممالک کے نسبت بہت زیادہ ہے۔اطلاعات کے مطابق گو ائیر کے مالیاتی بحران کی وجہ سے فضائی کرایہ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس وجہ سے متعدد سیاحوں نے اب بکنگ بھی منسوخ کی ہے،اس وجہ سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔سیاحتی شعبے سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے فوری مداخلت کرنی چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں اس وقت سیاحتی سیزن پورے جوبن پر ہے اور اس دوران فضائی کرایہ میں اضافہ کی وجہ سے اس پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی سیاحوں نے کرائیوں میں اضافہ کے پیش نظر کشمیر کے بجائے دوسری ریاستوں کی سیر و تفریح پر جانے کا پروگرام بنایاہے۔ مذکورہ خبر کے مطابق وادی کی سیر وتفریح پر آئے سیاحوں نے بتایا کہ کرائیوں میں اچانک اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے۔سیاحوں نے کہاکہ اس سے یہاں کے سیاحتی سیزن پر اثر پڑ سکتا ہے لہٰذا انتظامیہ کو اس میں فوری مداخلت کرنی چاہئے۔
کرایوں میں اس تفاوت پر نہ ہی کوئی حاکم سوال اٹھارہا ہےاور نہ ہی انتظامیہ اس پر اپنی خاموشی کو توڑنے کے موڑ میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کہ ہوائی جہاز اڑانے والی کمپنیوں کی اس لوٹ کھسوٹ کو چاہے ان چاہے قبول کرلیا گیا ہے اور اس ضمن میں عوام الناس کو بالکل بے یار و مددگار چھوڑ ا گیا ہے۔
قارئین کرام کو وہ وقت بھی یاد ہی ہوگا کہ جب بڑے تزک و احتشام کےساتھ سرینگر کے ہوائی اڈے کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا درجہ دے کر یہاں سے براہ راست شارجہ اور یو اے ای کی دوسری ریاستوں کےلئے پروازوں کا اعلان کردیا گیا تھا بلکہ یہ پروازیں شروع بھی کردی گئیں تھیں۔ اگرچہ یہ اقدام ایک بار نہیں دو مختلف حکومتوں کے دوران دو بار اٹھایا گیا لیکن بار بار خوش کن سنہری اعلانات اور اقدامات سےعوام الناس کوئی فائدہ اٹھانے سے اس لئے قاصر رہے کیونکہ شارجہ، دوبئی وغیرہ کےلئے کرائے کی شرح اس قدر زیادہ رکھی گئی کہ مسافروں نے دہلی سے فلائٹ لینے کو ہی ترجیح دی اور یوں سرینگر سے عالمی سفر کےلئے جہاز اٹھانے کا خواب ‘ خواب ہی رہا۔
سرینگر اور دہلی کے درمیان ہوائی کرائے میں اس ہوش ربا اضافے کو اس سال حج کے کرائے اور خرچے میں اضافے کے ساتھ بھی جوڑا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بھارت کی باقی ریاستوں کی مانند جموںو کشمیر میں اس برس حج کے کرائے اور خرچے میں بھی ہوش ربا اضافہ کردیا گیا ہے اور حالت یہ ہے کہ کئی ایسے لوگوں نے جن کا نام سرکاری حج کےلئے منتخب ہوچکا تھا‘ نے یا تو روپیہ جمع کرانے سے یکسر انکار کردیا ہے یا پھر وہ ابھی تک تذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ایک خبر کے مطابق تو انکار کرنے والوں کے بدلے سرکار نے ویٹنگ لسٹ میں موجود حج کی خواہش رکھنے والوں کو روپیہ ادا کرنے کی دعوت دی ہے اور کئی لوگوں نے ایسا کر بھی دیا ہے۔ یہ ایک عجیب صورت حال ہے جس نے بہرحال مکۃ المکرمۃجانے والے عازمین میں مایوسی پھیلائی ہے۔ اس ضمن میں جموں و کشمیر حج کمیٹی کی چیئرپرسن سفینہ بیگ نے واضح کیا کہ حج فیس میں اضافے کی بنیادی وجہ بڑھتا ہوا ہوائی کرایہ خاص طور پر سرینگر سے دہلی کی پروازوں کاکرایہ ہے ۔ سفینہ بیگ نے ٹویٹر پر وزیر اعظم نریندرمودی سے اپیل کی کہ وہ اس ضمن میں ایکشن لیں اور کشمیریوں کےلئےحج کے ضمن میں ہوائی کرایوں کو کم کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں حج امیدواروں کے لیے چارجز ہمیشہ سے زیادہ رہے ہیں اور امسال تو یہ برداشت کی حد سے بھی باہر ہوگئے ہیں۔موصوفہ نے مزید زور دیا کہ حکومت کو کشمیری زائرین کے لیے ہوائی کرایوں کو دوسری ریاستوں کے مساوی لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ بہت زیادہ اخراجات بہت سے عقیدت مندوں کے لیے مقدس سفر میں جانا ناممکن بنا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ بنگلور اور سرینگر کے درمیان ہوائی کرایہ کا فرق 91 ہزار روپے ، دہلی اور سرینگر کا50 ہزار روپے ، حیدرآباد اور سرینگر کا 90 ہزارروپے ، ممبئی اور سرینگر کا 90 ہزارروپے ہے ، اور یہ واضح طور پر کشمیر کے عوام میں خدشات کو جنم دیتا ہے جس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
ایل جی منوج سنہا کے ساتھ ایک حالیہ میٹنگ میںمحترمہ سفینہ بیگ نے حکومت کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے اور کشمیری عازمین کے لیے حج کے سفر کو مزید قابل رسائی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹویٹر پر آئے ہوئے ان کے بیان کے مطابق ان کی جناب منوج سنہا کے ساتھ ایک نتیجہ خیز میٹنگ ہوئی جہاںان دونوں نے کشمیری حج کے عازمین کے لیے زیادہ ہوائی کرایہ کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔’’ میںجناب ایل جی کےاس معاملے کو بغور سننے اور اس اہم مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کے لیے شکر گزار ہوں اور مثبت پیش رفت کی منتظر ہوں۔‘‘
حج 2023کی مقرر کردہ قیمت حج 2022 کی مقررہ قیمت سے 10 ہزاروپے زیادہ ہے۔ حج 2022 کے دوران عازمین کی طرف سے ادا کی گئی رقم3لاکھ 85ہزار روپے تھی، جب کہ عازمین کوحج 2023کے لیے3لاکھ95ہزارروپے کی ادائیگی کی توقع تھی ۔ تاہم، فروری2023میں، حکومت نے کہا کہ امسال حج80ہزار روپے سستا ہو گا اور ہر حاجی کو زیادہ سے زیادہ3لاکھ 50 ہزار سے3لاکھ 70 ہزارروپے ادا کرنا ہوں گے ۔ اس اعلان کے برعکس یہ خرچہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور کئی لوگوں کےلئے حج کےلئے جانا بھی ناممکن بن چکا ہے۔
درایں اثناء سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے ٹویٹر پر ہوائی کرایوں کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایئر لائنز من مانی طور پر کرایوں میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے مسافروں کو پریشانی ہو رہی ہے اور یہاں تک کہ عازمین حج کو زیادہ ادائیگی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سری نگر ایمبرکیشن پوائنٹ(ای پی ) پر عازمین کے ذریعہ ادا کی جانے والی عارضی حج کی رقم دہلی ای پی سے سفر کرنے والے عازمین کے مقابلے میں پچاس ہزارروپے زیادہ ہے۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی اب وزیر اعظم پر زور دے رہی ہے کہ وہ براہ راست مداخلت کریں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ حج کو کشمیری عازمین کے لیے مزید قابل رسائی بنایا جاسکے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہلی یا سرینگر سے کسی ذمہ دار نے ابھی تک حج کمیٹی کی ان گزارشات پر کم از کم عوامی سطح پر کوئی اقدام اٹھانے کی بات نہیں کی ہے اور اس ضمن میں آج تک یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرے گی اور اس بات کو کیسےیقینی بنائے گی کہ تمام عازمین مقدس سفر میں شرکت کر سکیں۔اخباری خبروں میں بتایا گیاہے کہ جموں و کشمیر سے حج 2023 کے لیے آنے والے عازمین جون 2023کے پہلے ہفتے سے سعودی عرب کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔واضح رہے کہ مارچ2023میں ہونے والی قرعہ اندازی کے مطابق جموں و کشمیر سے تقریباً 10ہزارافراد اس سال حج کی سعادت حاصل کرنے جا رہے ہیں۔عہدیداروں کے مطابق کمیٹی کو حج 2023ءکے لئے کل14271درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ محرم کے بغیر حج پر جانے والی132خواتین کے علاوہ 70سال سے زائد عمر کے 320افراد بھی ریزرو کیٹگری کے تحت حج پر جائیں گے۔
بہرحال زیارت بیت اللہ اور وہاں جاکر حج کی ادائیگی مسلمانوں کےلئے ایک ایسی عبادت ہے جس کی تمنا ہر چھوٹا،بڑا،مال دار اور غریب مسلمان ضرور کرتا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ حکومت ِ وقت اور جموں کشمیر انتظامیہ حج کے سفر کےلئے آنے والے خرچے کے بین الریاستی تفاوت اور تضاد کو دور کرنے کےلئے فوری اقدامات اٹھائیں گے تاکہ عوامی خدشات اور بے چینی کو فرو کیا جاسکے۔ ساتھ ہی حکام اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئر لائینز آپریٹیرس وغیرہ کی جانب سے دہلی اور دوسری بھارتی ریاستوں سے سرینگر آنے والی فلائٹوں کی ہوش ربا کرایوں کی وصولی کا بھی نوٹس لیں تاکہ یہاں کے سیاحتی سیزن کو بچایا جاسکے اور مسافروں کی راحت رسانی کا سامان ہوسکے۔











