امت نیوز ڈیسک //
جموں، 30 دسمبر: اس سال جموں و کشمیر میں 55 غیر ملکیوں سمیت کل 76 ملی ٹینٹ مارے گئے جبکہ 291 ملی ٹینٹ معاونین کو گرفتار کیا گیا کے اور 201 اوور گراؤنڈ ورکرز کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، یہ ڈیٹا ہفتے کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آر آر سوائن نے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران شئیر کیا۔
سوین نے مزید کہا کہ یونین ٹیریٹری میں صرف 31 مقامی عسکریت پسند – جو کہ اب تک کی کم ترین سطح ہے، باقی رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 14 عام شہری بھی مارے گئے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں ملی ٹینسی سے متعلقہ واقعات میں 63 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ ہڑتال کی کالوں اور مسلسل پتھراؤ کے ساتھ عسکریت پسندوں کی بھرتی میں بھی کمی آئی ہے۔
سوین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ڈی ایس پی اور ایک انسپکٹر سمیت چار پولیس اہلکار عسکریت پسندوں کے حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں کے 89 ماڈیولز کا پردہ فاش کیا گیا اور 18 عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا پردہ فاش کیا گیا جبکہ 170 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 99 جائیدادیں جن میں عمارتیں، زمین، باغات اور تجارتی ادارے شامل ہیں، کو ضبط کیا گیا اور 68 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علیحدگی پسندی اور عسکریت پسندی کی تعریف کرنے والے 8,000 سے زیادہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔( پی ٹی آئی)










