امت نیوز ڈیسک//
اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے ایک ہفتہ بعد یحییٰ سنوار کو حماس کا نیا سیاسی سربراہ نامزد کر دیا گیا۔ حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مزاحمتی تحریک حماس نے اپنے سیاسی بیورو کے سربراہ کے طور پر یحییٰ سنور کو منتخب کیا ہے۔
اسمٰعیل ہنیہ کی ہلاکت کے ایک ہفتہ بعد یحییٰ سنوار کو حماس کا نیا سیاسی سربراہ نامزد کر دیا گیا۔ حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مزاحمتی تحریک حماس نے اپنے سیاسی بیورو کے سربراہ کے طور پر یحییٰ سنور کو منتخب کیا ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ہنیہ کی جگہ سنوار کو اپنے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ نامزد کیا ہے، جو تہران میں ہوئے ایک قاتلانہ حملہ میں ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ ایران اور حماس کی جانب سے اس حملہ کےلئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، تاہم اسرائیل نے ذمہ داری کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ یحییٰ سنوار کی نوجوانی کا زیادہ تر حصہ اسرائیلی جیلوں میں گذرا ہے۔ اسمٰعیل ہنیہ کی موت کے بعد یحییٰ سنوار حماس میں طاقتور رہنما بن کر ابھرے ہیں۔ غزہ جنگ کے دوران سنوار کا حماس کے نئے سربراہ کے طور پر انتخاب کو کافی اہم سمجھا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کی ایک حملہ میں ہلاکت کے بعد ایران اور حماس نے ہنیہ کی موت کا بدلہ لینے کےلئے اسرائیل کو دھمکی دی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کسی بھی وقت اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر حملہ کی تیاری کرلی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں گذشتہ 10 ماہ سے جاری جنگ میں اب تک اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں کم از کم 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔