امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : جموں و کشمیر میں ستمبر اکتوبر ماہ میں تین مرحلوں میں انتخابات منعقد ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں 18سمبر جبکہ دوسرے میں مرحلے میں 25ستمبر اور تیسرے اور آخری مرحلے کے تحت یکم اکتوبر کو اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی چار اکتوبر کو ہوگی۔ دارالحکومت دہلی میں چیف الیکشن کمشنر راجیور کمار نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران راجیو کمار نے کہا کہ الیکشن شفاف طریقے پر منعقد کیا جائے گا اور سبھی سیاسی پارٹیز اور ان کے نمائندوں کو تشہیری مہم چلانے کے لئے کھلا میدان فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کے دوران نمائندوں سمیت ووٹرز کی حفاظت کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن سمیت حکومت کی بھی اولین ترجیح ہے اور اس حوالہ سے نمائندوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی بھی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ راجیو کمار نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران شراب، منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کو بھی جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر میں 10 سال قبل یعنی سال 2014میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اس وقت جموں کشمیر کی 87سیٹوں پر انتخابات منعقد ہوئے تھے جس میں یو ٹی لداخ بھی شامل تھا اور پی ڈی پی نے 28بی جے پی نے 25اور نیشنل کانفرنس نے 15سیٹوں پر جیت درج کی تھی جبکہ کانگریس 12سیٹوں پر کامیاب رہی تھی۔
سال 2018میں پی ڈی پی – بی جے پی کی مخلوط سرکار بنی اور مفتی محمد سعید وزیر اعلیٰ بنے تاہم ان کے انتقال کے بعد محبوبی مفتی وزیر اعلیٰ بنی اور 19 جون 2018 کو بی جے پی نے پی ڈی پی سے اتحاد توڑ دیا اور اس وقت کی ریاست میں گورنر راج نافذ ہو گیا۔ اور سال 2019میں جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370کو ختم کرکے لداخ کو علیحدہ اور جموں کشمیر کو علیحدی یونین ٹیریٹری میں منقسم کیا گیا۔ سخت مزاہمت کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے حد بندی کرائی گئی اور جموں کشمیر میں 7سیٹوں کا اضافہ کیا گیا جس میں سے چھ جموں اور ایک کشمیر میں بڑھا دی گئی۔ موجودہ وقت میں جموں کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کا راج ہے اور انتخابات کے بعد بھی زیادہ تر اختیارات ان ہی کے پاس رہیں گے، تاہم جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیے جانے تک لیفٹینٹ گورنر کے پاس ہی اکثر اختیارات ہوں گے۔








