امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر میں دو خالی اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے رواں برس فروری کے شروع میں ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات کے ساتھ منعقد کرائے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ برس ستمبر اکتوبر میں جموں کشمیر میں منعقد ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے دو نشستوں پر الیکشن لڑا تھا اور دونوں پردہ کامیاب ہوئے تھے اسکے بعد انہو نے بڈگام نشست کو چھوڑ دیا اور گاندربل نشست کو برقرار رکھا۔ و ہیں نگر وٹہ سیٹ بھاجپا سینئر لیڈ ردویندر سنگھ رانا کے انتقال کے بعد خالی ہوگئی رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا نے دو خالی نشستوں سے متعلق مکمل ڈیٹا حاصل کر لیا ہے اور امکان ہے کہ یمنی انتخابات کا اعلان دہلی کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ کیا جائے گا۔
موجودہ دہلی اسمبلی کی مدت رواں برس 15 فروری کو ختم ہو رہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ دلی میں فروری میں ہی انتخابات کرائے جائیں گے۔۔ وہیں آپ کو بتاتے چلیں کہ جموں کشمیر ایل جی کے پاس پانچ ممبران اسمبلی کو نامزد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے تاہم ابھی تک ان کی جانب سے ان نامزدگیوں پر کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے ۔ ان پانچ میں دو خواتین ، دو کشمیری پنڈت اور ایک مغربی پاکستان کے مہاجر کو نا مزد کیا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف سے جموں کشمیر کی چار راجیہ سبھانشستوں پر انتخابات کے بارے میں ابھی تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ نشستیں فروری 2021 سے خالی پڑی ہیں۔ ادھر اگر چہ جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی تشکیل گزشتہ برس اکتوبر میں پانچا ہم ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے ابھی تک انتخابات کا اعلان نہیں کیا ہے۔ طریقہ کار کے مطابق راجیہ سجا سکریٹریٹ کو خالی آسامیوں کو الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہوتا ہے جس نے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ انتخابات کا عمل قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹری کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جو ریٹرنگ افسر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس وقت نیشنل کانفرنس،
کانگریس اور آزادامیدواروں کا اتحا دراجیہ سبھا کی چار میں سے تین سیٹیں جیت سکتا ہے جبکہ بھاجپا کے کھاتے میں ایک سیٹ آسکتی ہے۔











