امت نیوز ڈیسک //
بھارتی فوج کی جانب سے لداخ کی پینگونگ تسو جھیل کے کنارے چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ نصب کیے جانے کے بعد سے تنازعات کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک طرف اس قدم کو بھارت کی فوجی طاقت اور تاریخی فخر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف مقامی لوگوں اور کچھ تجزیہ کاروں نے اس پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
قومی فخر کی علامت
ہندوستانی فوج کا خیال ہے کہ شیواجی مہاراج کے مجسمے سے فوجیوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور یہ ملک کی تاریخی اور فوجی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فوج نے اس مجسمے کو ہندوستان چین سرحد پر ایک پیغام کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ 30 فٹ اونچا مجسمہ مراٹھا جنگجو کی بہادری اور دور اندیشی کی علامت ہے۔
مقامی اپوزیشن اور ماحولیاتی تحفظات
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مجسمے کو نصب کرنے سے قبل مقامی کمیونٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ چوسول کونسلر کونچو سٹانزین نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کے منفرد ماحول اور جنگلی حیات کو دیکھتے ہوئے مقامی رضامندی کے بغیر اس مجسمے کو بنانا مناسب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا قدم مقامی ثقافت اور شناخت کو نظر انداز کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لداخ کا اپنا بھرپور ثقافتی ورثہ ہے اور اس طرح کے اقدامات سے مقامی لوگوں میں بیگانگی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
شیواجی بمقابلہ زوراور سنگھ پر تنازعہ
اس تنازعہ میں ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ لوگ لداخ کو فتح کرنے والے جنرل زوراور سنگھ کا مجسمہ نصب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ زوراور سنگھ نے لداخ کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور اس کا مجسمہ نصب کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
پینگونگ تسو کی اسٹریٹجک اہمیت
پینگونگ تسو جھیل ہندوستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے اور اس کی بڑی تزویراتی اہمیت ہے۔ یہ علاقہ 1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد سے کئی بار کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ سال 2020 میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان تصادم کے بعد سے دنیا کی نظریں اس خطے پر لگی ہوئی ہیں۔










