امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب کے ساتھ شروع ہوا، جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے ریاستی درجہ کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔
منوج سنہا صبح 9:58 پر اسمبلی کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے، جہاں اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزراء کابینہ اور دونوں بینچوں کے تمام ارکانِ اسمبلی موجود تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر کی آمد پر قومی ترانہ بجایا گیا، جس کے بعد انہوں نے خطاب کا آغاز کیا۔
اس دوران، اسمبلی حلقہ لنگیٹ سے منتخب ایم ایل اے اور عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے رہنما خورشید احمد شیخ نے بلور علاقے کے مکھن دین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے پلے کارڈز اٹھائے، مکھن دین نے مبینہ طور پر پولیس کے تشدد کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کیا گیا۔ تاہم، خورشید کو فوراً ایوان سے باہر نکال دیا گیا اور ان کے پلے کارڈز ضبط کر لیے گئے۔
اپنے خطاب میں منوج سنہا نے کہا کہ حکومت ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے تمام فریقین سے بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کیے گئے ترقیاتی کاموں کا بھی ذکر کیا، جن میں سرینگر جموں قومی شاہراہ پر رام بن اور بانہال میں دو بائی پاس سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔
ایل جی نے جموں و کشمیر میں جلد پنچایت اور بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’’ہمارا مقصد ہر شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے، چاہے وہ شہری علاقے میں ہو یا دیہی علاقے میں۔ نئے ترقیاتی منصوبے خطے کو اقتصادی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔‘‘ بنیادی ضرورتیات کے حوالہ سے ایل جی نے دعویٰ کیا کہ بجلی کی فراہمی، پانی کی سہولت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو سرکاری خدمات کا بہتر اور تیز تر فائدہ پہنچ سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی تقریر میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع خاص کر ملازمتیں پیدا ہوں گی اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل کو سنوارنے کے مواقع فراہم ہوں گے۔
جموں و کشمیر کی معیشت میں زراعت کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر نے کسانوں کے لیے نئی اسکیموں کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زراعت اور باغبانی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کی آمدن بھی بڑھے گی۔ ’’حکومت کسانوں کو سبسڈی پر بیج اور کھاد فراہم کر رہی ہے اور انہیں تربیت بھی دی جا رہی ہے، تاکہ وہ عالمی معیار کی پیداوار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر سکے۔‘‘
منوج سنہا کے مطابق ’’جموں و کشمیر قدرتی حسن، ثقافتی ورثے اور مذہبی سیاحت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حکومت سیاحتی شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آئیں اور مقامی معیشت مستحکم ہو سکے۔‘‘ ایل جی کے مطابق مختلف علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، تاکہ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم ہو سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہو رہی ہے اور حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام ایک محفوظ اور خوشحال ماحول میں زندگی گزار سکیں۔ ’’عوام کا تعاون ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہم سب مل کر جموں و کشمیر کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔‘‘
خطاب کے اختتام پر دوبارہ قومی ترانہ بجایا گیا، جس کے بعد ارکانِ اسمبلی ایوان کی جانب روانہ ہوئے، جہاں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق اراکینِ اسمبلی اور گزشتہ اجلاس (نومبر 2024) کے بعد وفات پانے والے سابق راجیہ سبھا ممبر کے لیے تعزیتی کلمات پیش کیے گئے۔











