امت نیوز ڈیسک //
جموں کشمیر کی حکومت غریب گھرانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاست کا درجہ واپس ملے گا ہے اور ہم اسے بحال کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لفظ ” یوٹی “ کو ہٹانے سے ہماری حقیقت نہیں بدلے گی۔ انہوں کہا کہ فی الحال ہم ایک یوٹی ہیں چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ یہ حکومت ایک یونین ٹیریٹری کے طور پر حکومت کرتی ہے۔
سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیپلز کانفرنس کے ممبر اسمبلی سجاد غنی لون کے ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے غریب ترین غریبوں کو مفت بجلی فراہم کرکے یہ عمل شروع کیا ہے۔جیسا کہ لون نے پوچھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت تمام گھرانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے متعدد مواقع پر یہ واضح کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے لیفٹنٹ گورنر کے خطاب بجٹ تقریر اور گرانٹس کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے اس کا اعادہ کیا ہے۔جب قانون ساز نے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ کیا کشمیر میں شمسی توانائی کے پینل 2 کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسے حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا ” یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر گھر تک بجلی کی پہنچ کو یقینی بنائے۔ “ اسی دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حزب اختلاف کے اراکین پر ”یونین ٹیریٹری “کی اصطلاح کے استعمال پر واک آوٹ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ اپنی ریاست کا درجہ بحال نہیں کر دیتی یہ خطہ ایک ہی رہے گا۔جموں و کشمیر اسمبلی نے جموں و کشمیر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) ایکٹ 2017 میں ترمیم کرنے کا بل منظور کیا۔ پیپلز کانفرنس کے رکن سجاد غنی لون کے واک آو¿ٹ کیا ۔
واک آوٹ کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا ”صرف اس لیے کہ ہم نے یہاں ’یونین ٹیریٹری ‘کا ذکر کیا ہے اور کسی چیز کا نہیں، اس سے کچھ نہیں بدلتا، بدقسمتی سے جب تک ہندوستان کی پارلیمنٹ ہماری ریاست کا درجہ بحال نہیں کرتی، ہم یونین ٹیریٹری ہی رہیں گے۔ اس لیے ہمیں اس پر سیاست نہ کریں“۔ انہوں نے کہا کہ واک آوٹ کرنے سے اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہمیں واٹس ائپ یونیورسٹی کی پوسٹس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے جو ہم میں سے کچھ لوگوں کو موصول ہوئی ہیں۔عمر عبداللہ نے مزید کہا”ہمیں جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاست کا درجہ واپس ملنا ہے۔ انشاءاللہ، ہم اسے بحال کریں گے۔
لیکن فی الحال لفظ یوٹی کو ہٹانے سے ہماری حقیقت نہیں بدلے گی۔ ہم ایک یوٹی ہیں چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ یہ حکومت ایک یونین ٹیریٹری کے طور پر حکومت کرتی ہے“۔ممبر اسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ کو جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا ”اس ہاو¿س کے ذریعہ اب تک تمام کاروبار جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹری کے نام سے ہوتے رہے ہیں۔ فنانس بل کی منظوری کے دوران میں نے بار بار یونین ٹیریٹری آف جموں و کشمیر کا کنسولیڈیٹڈ فنڈس کے حوالے سے ذکر کیا۔سجاد غنی لون نے تب واک آو¿ٹ کیوں نہیں کیا؟ اپنی گرانٹ کے دوران میں نے یوٹی کا ذکر کیا“۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممبران نے یونین ٹیریٹری کے تحت حلف لیا اور اس کے تحت الیکشن لڑا۔عمر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت ریاست کی بحالی کیلئے بھرپور طریقے سے لڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا ” ہم نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ایک قرارداد پاس کی تھی۔ ہم نے اسے وزیر اعظم کو پیش کیا تھا۔ میں نے اسے سونہ مرگ تقریب کے دوران ان کے ساتھ اٹھایا تھا۔ میں جب بھی دہلی جاتا ہوں میں یہ بات لاتا ہوں کہ جموں و کشمیر کے لوگ یونین ٹیریٹری کا درجہ پسند نہیں کرتے اور ریاست کی بحالی چاہتے ہیں۔ “










