امت نیوز ڈیسک //
میانمار میں 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے سے سینکڑوں عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ جمعہ کی رات دیر گئے 4.2 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیشنل سیسمولوجیکل سنٹر کے مطابق میانمار میں سنیچر کو دوپہر 2.50 بجے ریکٹر اسکیل پر 4.7 شدت کا تیسرا زلزلہ آیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی فوجی حکومت کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے میں اب تک 1644 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ 1500 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ تاحال ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت نے زلزلے کے بعد چھ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ساتھ ہی ایک امریکی ایجنسی نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر سکتی ہے۔
میانمار میں زلزلوں کی لہر
امریکہ کے جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق میانمار میں جمعہ کو 10 گھنٹوں کے اندر کل 15 زلزلے ریکارڈ کیے گئے جس کا آغاز 7,7 شدت کے زلزلے سے ہوا جو 06:20 بجے آیا۔ سب سے زیادہ طاقتور زلزلے کے بعد جو زلزلہ آیا جسے آفٹر شاک کہا جاتا ہے، اس کی شدت 6.7 کی ناپی کی گئی اور یہ 06:32 بجے آیا۔ اس کے بعد کئی ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
پہلے سلسلے بعد دوسرا بڑا جھٹکا جمعہ کو 11:56 بجے (مقامی وقت) پر آیا اور ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز زمین سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ اس کے بعد تیسرا بڑا جھٹکا سنیچر کی دوپہر کو آیا جس کی شدت 4.7 تھی۔
میانمار میں بھارت کا ریسکیو آپریشن
بھارت نے تباہ کن زلزلے سے دوچار میانمار کی مدد کے لیے ‘آپریشن برہما’ شروع کیا ہے۔ بھارت نے ‘آپریشن برہما’ کے تحت فوری طور پر فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے 15 ٹن سے زائد امدادی سامان بھیجا ہے، جو ینگون پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان نے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 80 رکنی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم میانمار بھیجی ہے، جو بچاؤ کاموں میں مدد کرے گی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی۔
اطلاعات کے مطابق چین کی 37 رکنی ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم بھی امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے میانمار پہنچ گئی ہے۔ وہیں یونان سے بھیجی گئی ٹیم ہنگامی ریسکیو آلات کے 112 سیٹ لے کر آئی، جس میں زلزلے سے پہلے وارننگ سسٹم، ڈرون اور پورٹیبل سیٹلائٹس شامل ہیں۔
وزیر اعظم مودی کی فوجی سربراہ سے بات چیت
پی ایم مودی نے فوجی حکومت کے سربراہ سے بات کی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو فوج کی زیر قیادت میانمار حکومت کے سربراہ من آنگ ہلینگ سے فون پر بات کی۔ پی ایم مودی نے مکمل مدد کا یقین دلایا کہ ہندوستان اس تباہی سے نمٹنے میں میانمار کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
پی ایم مودی نے ایکس پر جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ "میانمار کے سینئر جنرل من آنگ ہلانگ سے بات کی۔ تباہ کن زلزلے کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بارے میں میری گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ ایک قریبی دوست اور پڑوسی کی حیثیت سے ، ہندوستان اس مشکل وقت میں میانمار کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ تلاش اور امدادی ٹیموں کو تیزی سے متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا جارہا ہے۔”











