امت نیوز ڈیسک /
جموں : راجوری ضلع کے نوشہرہ علاقے میں گزشتہ رات ایک اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں تعینات اسسٹنٹ پروفیسر لیاقت چودھر پر مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں نے حملہ کیا۔ واقعہ کے بعد فوج کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے، اور اہلکار کی غلطی سامنے آنے کی صورت میں کارروائی کی یقین دہانی بھی کی ہے۔
نوشہرہ پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ چودھری کی شکایت پر فوجی جوانوں کے خلاف ای – ایف آئی آر (E-FIR) کی صورت میں حملہ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ مقدمہ بی این ایس کی دفعہ 115 شق (2) اور 126 (2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تاہم اب تک اس میں کسی بھی فوجی اہلکار کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ پروفیسر لیاقت چودھری کے مطابق وہ اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ اپنی بہن کی شادی کے بعد فرنیچر اور دیگر سامان پہنچانے کے لیے لام علاقے کی طرف جا رہے تھے، جب فوجی اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور شناخت کے دوران ان پر مبینہ طور حملہ کیا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالہ سے گردش کر رہی ایک ویڈیو میں پروفیسر چودھری کو سر کے دائیں جانب خون بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پولیس اور فوجی اہلکار بھی ویڈیو میں دکھائی دے رہے ہیں۔
لیاقت چودھری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’رات تقریباً ساڑھے دس بجے ہم اکھنور، جموں سے لام، نوشہرہ جا رہے تھے۔ میرے رشتہ دار نے بیلٹ فورس کے کارڈز دکھائے اور میں نے اپنا اسسٹنٹ پروفیسر کا شناختی کارڈ پیش کیا، لیکن کمپنی کمانڈر نے سخت لہجے میں بات کی اور بغیر کسی وجہ کے مجھے مارنا پیٹنا شروع کیا۔ بندوق کی پچھلی حصے سے کئی بار سر پر مارا گیا جس سے خون بہنا شروع ہوا۔ میرے ایک رشتہ دار نے پولیس کو فون کیا، جو فوری طور پر موقع پر پہنچی اور ہمیں بچایا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’میرے بیشتر رشتہ دار فوج سمیت دیگر فورسز میں کام کر رہے ہیں، اور میں فوج کا بہت احترام کرتا ہوں، لیکن جس طریقے سے میرے ساتھ سلوک کیا گیا، وہ ایک ڈسپلن فورس سے توقع نہیں تھی۔‘‘
واقعے کے بعد سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی اور فوج کے اعلیٰ افسران سے واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک پوسٹ میں کہا: ’’نوشہرہ کے لام علاقے کی ویڈیوز دل دہلا دینے والی ہیں، جہاں فوجی اہلکاروں کو ایک پروفیسر پر بے رحمی سے تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ متاثرہ پروفیسر اپنی بہن کی شادی کے لیے جا رہے تھے، اور ان کا خاندان بھی فوجی پس منظر رکھتا ہے۔ اس طرح کا عمل نہ صرف ایک عام شہری کا اعتماد توڑتا ہے بلکہ ایک باوقار ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘
ادھر، فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس علاقے میں دہشت گردوں کی ممکنہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد تلاشی کارروائی کی جا رہی تھی۔ بیان کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ گاڑی روکنے پر ایک شخص نے مبینہ طور پر فوجی اہلکار سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی، جس پر جھگڑا ہوا۔
فوج کے دفاعی پی آر او (PRO Defence) جموں نے کہا: ’’فوج نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اگر کسی بھی اہلکار کی غلطی پائی گئی تو اس کے خلاف ضابطے کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘ تاہم بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’بھارتی فوج انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اعلیٰ پیشہ ورانہ اور نظم و ضبط کے معیار کو برقرار رکھتی ہے، اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس حساس علاقے میں اجتماعی سلامتی کے لیے فوج کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔‘‘










