امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ وادی کشمیر میں سیاحت کی صنعت "بہت بری طرح متاثر” ہوئی ہے اور ان کی حکومت کی فوری ترجیح پرامن امرناتھ یاترا کو یقینی بنانا ہے۔
ہفتہ کو سری نگر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی ایم عمر نے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں سیاحوں کی آمد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں شاید ہی کوئی سیاح آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عہدیداروں کی اب پوری توجہ سالانہ امرناتھ یاترا پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ ہر یاتری یہاں سے محفوظ اور صحیح طریقے سے نکلے۔ ہم حادثات سے پاک سالانہ یاترا چاہتے ہیں، اور بعد میں ہم یہ دیکھنا شروع کریں گے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔”
ہر سال گرمیوں میں ہزاروں یاتری امرناتھ یاترا کے لیے جنوبی کشمیر کے پہلگام میں واقع مقدس غار کا رخ کرتے ہیں۔ 22 اپریل کو پہلگام حملے اور اس سے پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے بعد بہت سے ممکنہ سیاحوں نے سفر کرنے سے گریز کیا ہے۔
عمر نے یہ بھی کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد متاثرہ افراد کو معاوضہ دیا جائے گا۔ جہاں بھی ضرورت ہوگی، ہم مرکز سے مدد لیں گے۔
دریں اثناء عمر نے مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے متعدد ممالک کا دورہ کرنے والے آل پارٹی وفد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے یاد کیا کہ اٹل بہاری واجپائی جی کے دور میں 2001 میں پارلیمنٹ پر حملے کے بعد کئی ممالک میں اسی طرح کے وفود بھیجے گئے تھے۔ یہ ایک بار پھر ہندوستان کی آواز کو آگے لے جانے کا ایک اچھا موقع ہے۔










