امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: آپریشن سندور کی کامیابی کے بعد بھارت، پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف سفارتی جنگ کے لیے تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے سات کل جماعتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف ممالک کا دورہ کرکے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے موقف کو اجاگر کریں گے۔ اس سلسلہ میں ایک وفد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سے بھی ملاقات کرے گا۔ ذرائع کے مطابق ایک وفد میں پانچ ارکان پارلیمنٹ شامل ہوں گے۔ 7 وفود کے بیرون ملک دورے 23 یا 24 مئی کو شروع ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق دس روزہ دورے میں ایک کثیر جماعتی وفد تقریباً پانچ سے آٹھ ممالک کا دورہ کرے گا۔ پارلیمانی امور کے محکمہ نے ہفتہ کی صبح اس معاملے پر ایک بیان جاری کیا۔ اس کے مطابق، سات کل جماعتی وجود کی قیادت بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد اور بائیجیانت پانڈا، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور، جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ سنجے جھا، ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنیموزی، این ایس پی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے اور شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سری کانت شندے کریں گے۔ ان میں سے چار کا تعلق این ڈی اے اتحاد سے ہے، جبکہ باقی تین اپوزیشن اتحاد کے رہنما ہیں۔
مرکزی حکومت نے کل جماعتی وفود کی تشکیل کےلئے مختلف سیاسی پارٹیوں کے اہم ارکان پارلیمنٹ کو منتخب کیا ہے جبکہ تمام پارٹیوں کے ارکان کو ان میں شامل کیا گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے محکمے کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کے انتخاب کے عمل میں سیاسی جماعتوں کی سفارشات کو بھی نظر میں رکھا گیا۔ وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ایکس پر انکشاف کیا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پارٹی کے سربراہ ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے کانگریس کے اراکین اسمبلی کے انتخاب پر بات چیت کی۔ کانگریس کی جانب سے سابق مرکزی وزیر آنند شرما، کانگریس کے لوک سبھا کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین اور لوک سبھا کے رکن راجہ برار کو کل جماعتی وفد میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی تاہم کانگریس کی لسٹ میں ششی تھرور کا نام نہیں تھا، اس کے باوجود انہیں وفد میں شامل کیا گیا۔
وہیں ششی تھرور نے کہا کہ "مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے بھارت کی جانب سے بیرون ملک سفر کرنے کے لئے ایک کل جماعتی وفد کی قیادت کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ میں ملک کی نمائندگی کرنا ایک بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔ ہمارا وفد پانچ بڑے دوست ممالک کے دارالحکومتوں کا دورہ کرے گا۔ ہم وہاں کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور بھارت کی بات سنائیں گے۔ ہم حالیہ پیش رفت اور واقعات کی وضاحت کریں گے۔ اگر مجھے ملک کے مفاد میں بلایا گیا تو میں انکار نہیں کرسکتا”۔
سپریا سولے نے کہا کہ "ہم سب ملک کے لیے متحد ہیں۔ ہم ملک کی طرف سے جلد ہی غیر ملکی دورے پر جانے والے ہیں۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے مجھے کل جماعتی وفد کا حصہ بننے کے لیے کہا، میں نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔ آپریشن سندور کیوں شروع کرنا پڑا؟ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا بھارت پر کیا اثر ہے؟ ہم بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر تفصیلات بتائیں گے،”
آپریشن سندور کے تناظر میں، بھارتی وفود پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ کرن رجیجو نے کہا کہ غیر ملکی دوروں پر روانہ ہونے والے وفود بھارت کے اتحاد کا ثبوت ہے۔








