امت نیوز ڈیسک //
گاندربل: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سنیچر کے روز اسرائیل کی طرف سے ایران پر ہوئے حملے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اسرائیل نے ایران پر کس بنیاد پر حملہ کیا۔ ابھی چند روز قبل امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر امریکہ نے یہ بات چند ہفتے پہلے کہی تھی تو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟ کچھ سیاست چل رہی ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ یہ (حملہ) رکے گا اور بات چیت کی بنیاد پر کوئی حل نکلے گا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع ہفتے کے روز نویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے 13 جون کو ایرانی فوجی اور جوہری مقامات پر ایک بڑے فضائی حملے کا آغاز کیا، جسے "آپریشن رائزنگ لائن” کا نام دیا گیا۔
اسرائیلی حملے کے جواب میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے ‘آپریشن ٹرو پرومیس 3’ ایک بڑے ڈرون اور میزائل حملوں کے سلسلے کا آغاز کیا، جس میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے ایندھن کی پیداوار کی تنصیبات اور توانائی کی فراہمی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ آپریشن سندھو کے تحت اب تک 517 ہندوستانی شہریوں کو ایران سے ہندوستان لایا جا چکا ہے۔
جنگ زدہ ایران سے نکالے گئے ہندوستانی شہریوں نے ہفتہ کی صبح ترکمانستان کے اشک آباد سے خصوصی پرواز سے دہلی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ وہ گاندربل کے لوگوں کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں، جنہوں نے انہیں اپنا ایم ایل اے منتخب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان کی امیدوں کو پورا کرنے اور ان کاموں کو جاری رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جو انہوں نے شروع کیا تھا جب وہ پہلی بار ان کے نمائندہ بنے تھے۔
عبداللہ نے کہا کہ "لوگوں نے مجھے یہاں (گاندربل) کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا ہے اور میں ان کی خواہشات کو پورا کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ اس لیے میں آج یہاں اس کوشش کو جاری رکھنے کے لیے آیا ہوں جو میرے ایم ایل اے بننے کے وقت سے شروع ہوئی تھی۔”









