امت نیوز ڈیسک //
پلوامہ : ضلع اسپتال پلوامہ میں مبینہ طبی لاپرواہی کے بعد لوگوں نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طبی عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کر رہے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ طبی عملہ کی غفلت شعاری اور ایمبولینس کی عدم دستیابی کی وجہ سے پری پورہ، پلوامہ سے تعلق رکھنے والے فاروق احمد راتھر کی جان چلی گئی۔
فاروق کی وفات کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے معاملہ کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ لوحقین کے مطابق فاروق کو شدید پیٹ درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور پیر کی شام ایس ایم ایچ ایس اسپتال، سرینگر میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
اہل خانہ نے الزام ہے کہ فاروق احمد کی موت ضلع اسپتال پلوامہ میں طبی غفلت اور بروقت ایمبولینس کی عدم دستیابی کی وجہ سے واقع ہوئی۔ ان کے مطابق، ’’ابتدائی علاج کے بعد مریض کو گھر واپس بھیج دیا گیا، لیکن حالت بگڑنے پر اسے دوبارہ اسپتال لایا گیا جہاں مختلف انجیکشن دیے گئے۔ انجیکشن کے فوری بعد مریض بے ہوش ہو گیا اور بعد ازاں اسے ایس ایم ایچ ایس اسپتال ریفر کیا گیا، تاہم وہاں پہنچنے سے قبل ہی اس کی موت واقع ہوئی۔‘‘
لواحقین نے طبی عملہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا (ای ٹی وی بھارت)
لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ’’اسپتال میں انجیکشن دیے جانے کے بعد فاروق کی حالت مزید بگڑ گئی اور ریفر کرنے کے وقت ایمبولینس بھی آدھے گھنٹے تک دستیاب نہ تھی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر بر وقت ایمبولینس اور مناسب طبی امداد فراہم کی جاتی تو شاید فاروق احمد کو بچایا جا سکتا تھا۔‘‘
فاروق راتھر کی موت کے بعد لوگوں نے اسپتال کے باہر احتجاج کیا اور شفاف تحقیقات کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ’’اسپتال میں آئے روز اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں اور طبی سہولیات کی کمی یہاں اب روٹین بن چکی ہے۔‘‘ دوسری جانب، اسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالغنی نے بتایا کہ مریض کو او پی ڈی میں معائنے کے بعد کیجوالٹی وارڈ میں انجیکشن تجویز کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا: ’’مریض انجیکشن لینے کے بعد بے ہوش ہو گیا، جس کے بعد ہماری طبی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے مستحکم کیا اور ایس ایم ایچ ایس سرینگر ریفر کیا گیا۔‘‘
ڈاکٹر عبدالغنی نے یہ بھی کہا کہ ’’ریفر کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی اور ایمبولینس بھی فوراً دستیاب تھی۔‘‘ ان کے مطابق مریض کو مستحکم حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا تھا۔ ادھر مقامی لوگوں اور سماجی کارکنان کی جانب سے اسپتال کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسپتال میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں پے در پے ایسے افسوسناک واقعات پیش آنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ جس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔







