وادی کشمیر، جو اپنی خوبصورتی، قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہے، آج ایک سنگین مسئلے سے دوچار ہے: منشیات کی بڑھتی ہوئی لت۔ یہ مسئلہ نہ صرف نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے بلکہ پورے سماج، معیشت اور امن و امان کے لیے ایک خطرناک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
کشمیر میں منشیات کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سرفہرست بے روزگاری، ذہنی دباؤ، گھریلو مسائل، تنازعات کا ماحول، اور تعلیم و تربیت کی کمی شامل ہیں۔ کئی نوجوان حالات سے مایوس ہو کر منشیات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔منشیات کے استعمال سے سب سے زیادہ متاثر نوجوان نسل ہو رہی ہے۔ نشے کی لت نوجوانوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر کمزور بنا دیتی ہے۔ تعلیم کا نقصان، جرائم میں اضافہ، خاندانی نظام کا بکھراؤ، اور خودکشی جیسے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نشے کے عادی افراد مختلف بیماریوں جیسے ایڈز، ہیپاٹائٹس اور ذہنی بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔
منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کی طرف سے اینٹی نارکوٹکس فورسز، پولیس، اور دیگر ایجنسیز سرگرم ہیں، لیکن یہ کوششیں اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتیں جب تک عوام، خاص طور پر والدین، اساتذہ، اور مذہبی رہنما، اپنا کردار ادا نہ کریں۔
منشیات کے خلاف اس جنگ میںایک اقدام کے طور پر گزشتہ دنوں کشمیر سے شائع ہونے والے ہفتہ روزہ اخبارات کب انجمن ’’وائس آف ویکلی نیوز پیپرس‘‘نے سرینگر میںایک سمینار کا انعقاد کیا جس میں وزیر صحت وطبی تعلیم سکینہ ایتو نےمہمان خصوصی کے طور شرکت کی، جبکہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، اسکول ایجوکیشن، پولیس و دیگر محکمہ جات کے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر طلبہ کی ایک خاصی تعداد بھی موجود تھی جنہوں نے منشیات کے خلاف جنگ میںاپنے عزم کا اظہار کیا۔ ایسے پروگرامات حوصلہ افزاءہیں جن کا انعقاد تواتر کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
منشیات کے خلاف جنگ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کشمیر کو اس ناسور سے بچانے کے لیے حکومت، سوسائٹی، میڈیا، اور تعلیمی اداروں کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنی نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کر سکتے ہیں۔










