امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 08 اگست 2025: تاریخی جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کے خطبے کے دوران میر واعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کشمیر کے مختلف علاقوں سے فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے 3500 کلوگرام سے زائد باسی، غیر لیبل شدہ اور ممکنہ طور پر غیر قانونی گوشت کی برآمدگی پر شدید صدمے اور افسوس کا اظہار کیا۔
میر واعظ نے کہا کہ لوگوں کو حرام یا مضر صحت کھانا کھلانا ظلم ہے — ایک سنگین ناانصافی۔ یہ عمل نہ صرف عوامی اعتماد سے غداری ہے بلکہ خدائی احکامات، معاشرتی معاہدے اور قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس میں ملوث افراد کو فوری طور پر قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا:”یہ واقعہ لوگوں کے اعتماد کو ہلا دینے والا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنی بڑی بدعنوانی اتنے طویل عرصے تک بغیر کسی نگرانی کے جاری رہی۔ یہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ آخر اتنے عرصے تک یہ سب کیسے نظر انداز ہوتا رہا؟ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کب سے جاری تھا، لیکن اس کی وسعت اور شدت ایک گہری اور پریشان کن ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔”
میر واعظ نے مزید کہا کہ حکومت کو فوری اور سخت اقدام کرنا ہوگا، اور یہ لازمی قرار دیا جائے کہ کوئی بھی پیک شدہ گوشت بغیر واضح لیبل، تصدیق شدہ کولڈ اسٹوریج معلومات، اور حلال سرٹیفکیٹ کے مارکیٹ میں نہ آنے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ گوشت کی اصل نوعیت کے بارے میں بھی کمیونٹی میں شدید خدشات پیدا ہو رہے ہیں — یہاں تک کہ شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ گوشت کہیں غیر حلال جانوروں کا یا مردار (مَیْتَہ) تو نہیں، جو کہ اسلام میں سختی سے منع ہے۔
"یہ صرف صحت کے ضوابط کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ ہمارے مذہبی اصولوں اور اجتماعی اقدار کی خلاف ورزی بھی ہے۔”
میر واعظ نے کہا کہ،”جب ہم حکام سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں خود بطور افراد اور بطور معاشرہ بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ یہ واقعہ ہمارے اخلاقی زوال کی علامت ہے، جہاں لالچ اور منافع خوری انسان کو اس قدر نیچے گرا چکی ہے کہ وہ حرام خوری جیسے جرائم تک جا پہنچا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے باعث تشویش ہونا چاہیے، خاص طور پر جب ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں۔”
انہوں نے اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے باشعور شہریوں کے کردار کو سراہا اور ان کی جرأت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔










