امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی خاطر آئندہ آٹھ ہفتوں میں گھر گھر مہم چلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جموں و کشمیر کے ہر قانون ساز اسمبلی حلقے کا دورہ کریں گے اور عوام کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات جمع کرنے کے لیے گھر گھر جائیں گے، تاکہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت کو یقینی بنایا جا سکے۔
سری نگر میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا:
"سپریم کورٹ نے آٹھ ہفتے کا وقت دیا ہے، اور ہم اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ہر حلقے تک پہنچیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی گھر یا فرد اس مہم کی تائید سے محروم نہ رہ جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کے دوران ان افراد کے انگوٹھے کے نشانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے جو دستخط کرنے سے قاصر ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا: "چھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب جموں و کشمیر کے عوام نے اس پلیٹ فارم سے اپنے نمائندے کی آواز سنی تھی۔ اس وقت میں ایک ایسی ریاست کا وزیر اعلیٰ تھا جس کی اپنی شناخت، آئین، پرچم اور ریاستی حیثیت تھی۔ آج یہ سب ختم ہو چکا ہے۔”
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ جمہوریت کی واپسی میں وقت لگا، لیکن اب خطے میں ایک منتخب حکومت موجود ہے۔ "ہمیں امید تھی کہ 15 اگست کو جموں و کشمیر کے لیے کوئی اہم اعلان ہوگا۔ حتیٰ کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ ریاستی حیثیت کے کاغذات تیار کیے جا رہے ہیں، لیکن کچھ نہیں ہوا۔”








