امت نیوز ڈیسک//
صفا کدل، سرینگر کی رہائشی صباء رسول، جو ایران کی اُرمیا یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں ایم بی بی ایس کی چوتھے سال کی طالبہ تھیں، طبی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئیں۔
خاندانی ذرائع نے کشمیر نیوز آبزرور کو بتایا کہ صباء نے دو دن قبل درد کی شکایت کی تھی اور انہیں وہاں کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔ زندگی و موت کی کشمکش کے بعد وہ گزشتہ رات تقریباً 3 بجے چل بسیں۔
اس دوران، مرحومہ کے اہل خانہ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارتِ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ ان کی میت کو جلد از جلد کشمیر واپس لایا جائے تاکہ آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔ اہل خانہ اور محلہ مکینوں نے ان کے اچانک انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور حکام سے اپیل کی کہ تدفین کے لیے میت کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جائے۔
اسی دوران، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کو خط لکھ کر مرحومہ صباء رسول کی میت کی جلد وطن واپسی اور مبینہ طبی غفلت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ایسوسی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر خویہامی نے وزیر خارجہ کو لکھے خط میں کہا کہ صباء رسول کی اچانک طبیعت بگڑنے کے بعد انتقال نے ان کے اہل خانہ، دوستوں اور کمیونٹی کو شدید صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے دوستوں اور بیچ میٹس کا الزام ہے کہ ان کی موت مبینہ طور پر سنگین طبی غفلت کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
دوستوں کے مطابق، صباء کئی دنوں سے متلی اور قے کی شکایت کر رہی تھیں۔ ایک عام ایمبولینس کو آنے میں تین گھنٹے لگے اور اسپتال پہنچنے پر انہیں ایمرجنسی وارڈ (ارجناس) میں بیڈ دینے سے پہلے دو گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ حالت نازک ہونے کے باوجود انہیں دو دن تک صرف نارمل سلائن پر رکھا گیا اور درد کی شکایت پر ہی پین کلر دیے گئے۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کے وائیٹلز ایک پورے دن تک چیک نہیں کیے گئے اور باقاعدہ مانیٹرنگ بھی نہیں ہوئی۔
بار بار منت سماجت کے بعد انہیں جی آئی وارڈ منتقل کرنے کے بجائے پہلے جی آئی وارڈ کے باہر کوریڈور میں رکھا گیا اور پھر انٹرنیشنل پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ بھیج دیا گیا، جہاں حالت مزید بگڑ گئی۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ انہیں دورے پڑے، وائیٹلز غیر مستحکم ہوئے اور ٹیکی کارڈیا کا شکار ہوئیں۔ بعد میں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا، لیکن آخری دن انہوں نے بات کرنا چھوڑ دی اور آنکھیں بند رکھیں۔
ڈاکٹروں نے موت کی وجہ فُلمنینٹ ہیپٹک فیلئر (شدید جگر فیل ہونا) اور پھیپھڑوں کی پیچیدگیاں بتائی ہیں، تاہم دوستوں کا کہنا ہے کہ موت تک ڈاکٹر درست تشخیص نہیں کر سکے۔
ایسوسی ایشن نے وزیر خارجہ سے اپیل کی کہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ کر کے غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر غفلت ثابت ہو تو اسپتال کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی اہل خانہ کی فوری ترجیح میت کی واپسی ہے تاکہ مذہبی و ثقافتی روایات کے مطابق تدفین کی جا سکے۔
ایران میں ایسوسی ایشن کے کوآرڈینیٹر فیضان عیشنا نے کہا کہ ڈاکٹر جے شنکر کی بروقت مداخلت نہ صرف اہل خانہ کے زخموں پر مرہم رکھے گی بلکہ بیرونِ ملک بھارتی شہریوں کی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے بھارت کے عزم کو بھی ظاہر کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام انسانی اور انتظامی مراحل جلد مکمل کیے جائیں تاکہ صباء رسول کی میت بلا تاخیر گھر پہنچے اور انہیں باوقار الوداع دیا جا سکے۔








