امت نیوز ڈیسک //
سوپور، 17 ستمبر : ممتاز علمی شخصیت، سیاسی رہنما اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بٹ مختصر علالت کے بعد آج شام اپنے آبائی گاؤں بوٹینگو سوپور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔
کے این ٹی کے مطابق پروفیسر بٹ 1935 میں شمالی کشمیر کے سوپور کے نزدیک بوٹینگو گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک جید اسکالر تھے۔ انہوں نے سری پرتاپ کالج سرینگر سے فارسی، اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن مکمل کیا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی میں پوسٹ گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔
سیاست میں آنے سے قبل وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک فارسی کے پروفیسر رہے۔ 1986 میں انہیں "ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ” قرار دے کر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جس کے بعد وہ عملی سیاست میں داخل ہوئے۔
سیاسی طور پر پروفیسر بٹ نے 1986 میں مسلم یونائیٹڈ فرنٹ (ایم یو ایف) کی بنیاد رکھی، جس نے 1987 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا۔ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے بعد ایم یو ایف ختم ہوگیا اور پروفیسر بٹ نے جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت سنبھالی۔ بعد ازاں وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔
انہوں نے "بیانڈ می” نامی کتاب تصنیف کی اور وہ اپنے صاف گو خیالات کے لیے مشہور تھے۔ انہیں حریت قیادت میں ایک معتدل آواز سمجھا جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ پتھراؤ، اسلحہ اور پرتشدد ذرائع کی مخالفت کرتے رہے۔
خاندانی ذرائع نے بتایا کہ ان کی نمازِ جنازہ کل صبح 10 بجے ان کے آبائی گاؤں سوپور میں ادا کی جائے گی۔
ان کا انتقال کشمیر کی تاریخ کے ایک طویل باب کا اختتام ہے—ایک استاد، مفکر اور سیاستدان کا، جس نے تدریس اور سیاست کو یکجا کیا۔










