امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: پولیس شہداء فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے دوران قومی ترانہ بجائے جانے کے وقت کھڑے نہ ہونے پر 15 شائقین کو منگل کی شام سری نگر میں حراست میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر بے ادبی نہیں بلکہ بینڈ کی آواز مدھم اور غیر واضح ہونے کی وجہ سے پیش آیا جس کی وجہ سے انہیں ترانے کے آغاز کا علم ہی نہ ہو سکا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پولیس شہداء فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل سری نگر کے ٹی آر سی میں واقع سنتھیٹک ٹرف فٹبال گراؤنڈ میں منعقد ہوا، جس میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی شرکت کی۔
معمول کے پروٹوکول کے تحت تقریب کے دوران قومی ترانہ بینڈ کی جانب سے بجایا گیا۔ تاہم، کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے بعد ازاں اسٹیڈیم کے تماشائیوں میں سے 15 افراد کو قومی ترانے کے دوران نہ کھڑے ہونے پر حراست میں لے لیا۔
اس واقعے کے بعد حراست میں لیے گئے کچھ افراد کے والدین اور رشتہ دار سامنے آئے اور وضاحت پیش کی کہ یہ کسی قسم کی دانستہ بے ادبی نہیں بلکہ ایک بدقسمت غلط فہمی تھی۔
ایک فکرمند والد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:“قومی ترانہ بینڈ نے بجایا، لیکن جہاں وہ بیٹھے تھے وہاں سے آواز بہت مدھم اور غیر واضح تھی۔ انہیں ترانے کے آغاز کا پتہ ہی نہ چل سکا، اسی لیے وہ وقت پر کھڑے نہیں ہو پائے۔ یہ ایک غیر ارادی غلطی تھی، جان بوجھ کر بے ادبی نہیں۔”
قومی ترانے کی بجا آوری کے دوران احترام کے تقاضے سخت پروٹوکول کے تحت طے ہیں اور شہریوں کے لیے کھڑے ہو کر احترام کرنا ایک بنیادی فرض سمجھا جاتا ہے۔ قومی پرچم اور قومی ترانے کی دانستہ بے ادبی سے متعلق معاملات "قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام ایکٹ 1971” کے تحت آتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ان افراد کو پروٹوکول پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے اور اس معاملے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ (کے ڈی سی)










