امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 17 اکتوبر : کرائم برانچ کشمیر کے اکنامک آفنسز وِنگ (EOW) نے جمعہ کے روز سرینگر میں ایک کروڑوں روپے کے اراضی فراڈ کیس میں آٹھ ملزمان، جن میں چار ریونیو افسران شامل ہیں، کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔
کے این سی کو موصول بیان کے مطابق، اکنامک آفنسز وِنگ، کرائم برانچ کشمیر نے ایف آئی آر نمبر 23/2019 کے تحت درج ایک بڑے زمین گھپلے کے کیس میں چالان قابلِ احترام اسپیشل جج اینٹی کرپشن عدالت، سرینگر کے روبرو پیش کیا۔ اس چالان میں آٹھ افراد بشمول چار ریونیو افسران (تین ریٹائرڈ اور ایک حاضر سروس) کو نامزد کیا گیا ہے، جو اپنی سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے زمین پر غیر قانونی قبضے اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے مرتکب پائے گئے۔
کیس ایک شکایت سے شروع ہوا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ندیـم احمد مایر اور شفیق احمد مایر، ساکنان اقبال کالونی، شالتنگ سرینگر، نے اہل دنیہمہ میں 52 کنال اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ انہوں نے جعلی ریونیو ریکارڈ تیار کیے اور فرضی تبدیلیاں (میوٹیشن نمبر 13، 16، 17، 18، 30، 31 اور 34) درج کرائیں، جنہیں زبانی ہبہ (حبہ زبانی) کے طور پر ظاہر کیا گیا، حالانکہ اس کی کوئی قانونی یا خاندانی بنیاد موجود نہیں تھی۔
تحقیقات میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن میں سرکاری ریکارڈ (پارٹی سرکار) کی عدم موجودگی، خزانہ ووچر نمبرز اور تاریخوں کی غیر موجودگی، اور بغیر اجازت صرف ایک شریک مالک کی جانب سے میوٹیشن شامل ہے، جس سے دیگر مالکوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا۔ مزید یہ کہ 40 کنال ریاستی اراضی پر بھی غیر قانونی قبضہ پایا گیا۔
بیان کے مطابق، یہ جعلسازی ریونیو افسران کی ملی بھگت سے کی گئی، جنہوں نے ریکارڈ میں ہیر پھیر اور قانونی تقاضوں سے بچنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ملزمان پر تعزیراتِ ہند کی دفعات 420، 447-A، 467، 468، 471، 120-B اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ کرائم برانچ کشمیر قانون کی بالادستی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مزید قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ (کے این سی)









