امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے جموں و کشمیر حکومت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت پسماندہ علاقوں کے کوٹے میں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے اسے کشمیری عوام کی نمائندگی اور بااختیاری کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وحید پرہ نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا یہ فیصلہ، جو بظاہر "عقلی اصلاحات” (rationalization) کے نام پر کیا گیا ہے، دراصل کشمیری عوام کو بے اختیار کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس تاریخی کوٹے پر ضرب ہے جو کشمیریوں کے تعلیمی و انتظامی حقوق کے تحفظ کی ضمانت رہا ہے۔
وحید پرہ نے لکھا:”جموں و کشمیر حکومت کی کابینہ ذیلی کمیٹی کا فیصلہ، جس کے تحت آر بی اے کوٹہ میں کمی کو ‘rationalization’ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، کشمیریوں کو کمزور کرنے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ان پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے جنہیں یہ کوٹہ برسوں سے انصاف اور نمائندگی فراہم کر رہا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وحید پرہ نے کہا کہ اس فیصلے کی حمایت کر کے وہ دراصل برابری کے اصولوں کا دفاع نہیں بلکہ "بے اختیاری کے ایجنڈے” کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ آر بی اے کوٹہ جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی کا ایک اہم ستون رہا ہے جس سے پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں کے لوگ دہائیوں سے مستفید ہوتے آئے ہیں۔(کے این ٹی)









