امت نیوز ڈیسک //
بڈگام، 16 نومبر: بڈگام رنگ روڈ کے واٹرونی علاقے میں ہفتہ کی شام ڈمپر اور سمو گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 10 سالہ بچی سمیت چار افراد لقمۂ اجل بن گئے، جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے کشمیر نیوز کارنر کو بتایا کہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ تین مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ چوتھا زخمی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔
جاں بحق ہونے والوں میں 10 سالہ زینب بھی شامل ہے، جو محوارہ کی رہائشی تھی۔ اس کی کمسن موت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس کے والد نثار احمد راتھر اور دو دیگر رشتہ دار بشیر احمد راتھر اور خاتون بھی حادثے میں جاں بحق ہوگئے، جس سے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
حادثے میں زخمی ہونے والے سات افراد میں سے پانچ کو بہتر علاج کے لیے ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ دو کو ضلع اسپتال بڈگام میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگ اور راہگیر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو ملبے میں پھنسی گاڑی سے نکال کر فوری مدد فراہم کی۔ حادثے کے بعد کچھ وقت تک سڑک ٹریفک کے لیے بند رہی۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دریں اثنا، نیشنل کانفرنس کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر و وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بڈگام میں پیش آئے اس افسوسناک حادثے پر گہرے صدمے اور رنج کا اظہار کیا ہے، جس میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حادثے کی وجوہات کی جامع جانچ کی جائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔








