امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اکنامک آفنسز ونگ نے فوڈ، سول سپلائز اینڈ کنزیومر افیئرز محکمہ میں بڑے غبن اسکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین افسران کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ چارج شیٹ ایف آئی آر کے تحت چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سوپور کی عدالت میں پیش کی گئی۔
یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب فوڈ، سول سپلائز اینڈ کنزیومر آِفیئرز ڈائریکٹوریٹ نے ہائیگام اور بارہمولہ کے گرینری سینٹروں سے چاول کی مبینہ خرد برد اور ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کے بارے میں مشکوک دستاویزات کرائم برانچ کو بھیجیں۔ شکایت موصول ہونے کے بعد ایس ایس پی کرائم برانچ کشمیر نے جوائنٹ سرپرائز چیکنگ کی ہدایت دی، جس نے پورے گھپلے کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔
جوائنٹ سپرائز چیکنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ:
• بارہمولہ سے سات ٹرک چاول متعلقہ اہلکاروں کی نگرانی میں بھیجے جانے دکھائے گئے۔
• جعلی چالانوں میں ظاہر کیا گیا کہ یہ چاول ہائیگام گرینری پہنچ چکے ہیں اور بعد ازاں انہیں واگورہ، نؤپورہ، جٹھار، کلنترہ اور ڈنڈموہ کے مراکز میں تقسیم کیا گیا۔
• مگر حیران کن طور پر تمام مراکز نے واضح کیا کہ انہیں کوئی اسٹاک موصول نہیں ہوا، جبکہ ان کا سرکاری ریکارڈ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔
مزید تفتیش میں یہ بھی ثابت ہوا کہ جعلی چالان محمد شفیع راتھر المعروف شافی کانڈا نے پرائیویٹ انٹر پرانورز گارنٹی بارہمولہ کے تحصیل سپلائی افسر سراج الدین بھٹ سے حاصل کیے تھے، جبکہ پورے عمل کی نگرانی ٹی ایس او ہائیگام محمد حسین بھٹ کر رہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق تینوں افسران نے آپس میں ملی بھگت کر کے، اور FCI بارہمولہ کے کچھ ملازمین کی معاونت سے سرکاری چاول کی بھاری مقدار غائب کر کے اسے غیرقانونی طور پر فروخت کیا۔ اس عمل سے سرکاری خزانے کو شدید مالی نقصان پہنچا۔
چارج شیٹ عدالت میں پیش
زبانی بیانات، دستاویزی ثبوت اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر جرم ثابت ہونے کے بعد چارج شیٹ عدالت میں داخل کر دی گئی ہے۔
کرائم برانچ کے مطابق کیس کی مزید قانونی کارروائی عدالت میں جاری رہے گی۔










