امت نیوز ڈیسک//
سرینگر، 9 دسمبر : نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دہلی دھماکہ کیس کی تحقیقات میں شدت لاتے ہوئے منگل کو دو اہم ملزمان کو دہلی سے جموں و کشمیر منتقل کیا اور اسی دوران جنوبی کشمیر میں متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے، سرکاری ذرائع نے بتایا۔
ذرائع کے مطابق ملزمان، جن میں ڈاکٹر عادل احمد بھی شامل ہیں، سخت سکیورٹی کے درمیان کشمیر لائے گئے تاکہ واقعے کے سلسلے کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا سکے اور دھماکہ کیس سے مبینہ روابط و لاجسٹک سپورٹ نیٹ ورکس کی جانچ کی جا سکے۔ این آئی اے کی ٹیموں نے جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع میں ان افراد کے ٹھکانوں پر مربوط تلاشی کارروائیاں انجام دیں جن کے بارے میں شبہ تھا کہ ان کا ملزمان سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔
اہلکاروں نے بتایا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد چھاپے مارے گئے جن کا مقصد دستاویزی شواہد اور ڈیجیٹل مواد جمع کرنا تھا تاکہ جاری تحقیقات میں مدد مل سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ تلاشی کے دوران الیکٹرانک ڈیوائسز سمیت کچھ دیگر اشیاء ضبط کی گئیں، تاہم این آئی اے نے برآمدات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
جن علاقوں میں تلاشی کارروائیاں کی گئیں وہاں کے مقامی باشندوں نے بتایا کہ صبح سویرے ہی این آئی اے کی ٹیمیں موجود تھیں اور آپریشن کے دوران سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔
این آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر مخصوص معلومات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ [کے این ٹی]









