امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر ریاستی کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے کشتواڑ کے رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی سے وضاحت طلب کی اور معاملے کی اعلیٰ سطح کی آزاد اور غیر جانبدار جانچ کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے مطابق رپورٹ میں حکمراں جماعت اور اس کے ایک نمائندے کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کا تعلق ریاست کے ایک نہایت اہم اور عوامی مفاد کے حامل بجلی منصوبے کی عمل آوری اور انتظامی امور سے ہے۔ جے کے پی سی سی کے چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ ان الزامات کی مکمل اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی تفصیلات نہایت چونکا دینے والی ہیں اور عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا کسی سیاسی مداخلت یا دباؤ کے باعث اس اہم منصوبے کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف منصوبے کی بروقت تکمیل متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عوامی مفاد کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کشتواڑ ضلع میں دریائے چناب پر قائم 850 میگاواٹ کا رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جموں و کشمیر کے بڑے بجلی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 37 ہزار کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ یہ منصوبہ یو پی اے حکومت کے دور میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد چناب خطے سمیت پوری ریاست میں بجلی کی قلت کو کم کرنا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا تھا۔
گذشتہ کچھ عرصے سے اس منصوبے کے حوالے سے تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ پروجیکٹ انتظامیہ نے سیاسی مداخلت، مزدوروں کو احتجاج پر اکسانے، اور کمپنی اہلکاروں پر دباؤ ڈالنے جیسے الزامات عائد کیے ہیں، جب کہ بعض مواقع پر تعمیراتی کام رکنے کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا۔ ان حالات نے منصوبے کی رفتار اور مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
کانگریس نے کہا کہ حالیہ انکشافات، جن میں انتخابی بانڈز سے متعلق امور کا ذکر بھی شامل ہے، بی جے پی سے کئی سوالات کے جواب مانگتے ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ سطح کی جانچ کے ذریعے تمام پہلوؤں کی چھان بین کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور عوامی سرمائے سے جڑے اس اہم منصوبے کو کسی بھی طرح کے سیاسی یا غیر سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔










