امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، یکم جنوری :جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری شال تاجروں پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان وارداتوں کے پیچھے ہٹلر طرز کی خطرناک سوچ کارفرما ہے، جسے ملک میں مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ کچھ عناصر نازی ازم جیسی نفرت پر مبنی نظریات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ نظریہ دنیا سے کب کا مٹ چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی انتہاپسندانہ سوچ یہاں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ بار بار کشمیری تاجروں، خصوصاً شال فروشوں کو نشانہ بنانا نفرت اور خوف پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔ یہ تاجر اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے جموں و کشمیر سے باہر جاتے ہیں، مگر انہیں تشدد اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری عوام امن، باہمی احترام اور بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں، اور ایسے واقعات ملک کے سماجی و معاشی تانے بانے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
فاروق عبداللہ نے موسمِ سرما پر بھی بات کرتے ہوئے کشمیر میں مناسب برف باری کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ برف باری سیاحت کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے، جس پر ہزاروں خاندانوں کا روزگار منحصر ہے، اس کے علاوہ زراعت اور آبی وسائل کے لیے بھی یہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سرمائی موسم سے سیاحتی شعبے کو سہارا ملے گا اور مقامی لوگوں کو معاشی راحت نصیب ہوگی۔
علاقائی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی وکالت کی اور کہا کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کو ایک دوست ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نفرت اور تشدد زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ تفرقہ انگیز نظریات کو مسترد کر کے بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
[کے این ٹی]








