جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں ایم بی بی ایس داخلوں کا تنازعہ محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ معاملہ تیزی سے سماجی ہم آہنگی، آئینی اقدار اور ریاستی طرزِ حکمرانی کے امتحان میں بدل گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو زیادہ ڈاکٹروں، بہتر طبی تعلیم اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہے، اس تنازعے نے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
میڈیکل کالج میں داخلے NEET کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے، جو ملک بھر میں نافذ ایک شفاف اور یکساں نظام ہے۔ اگر کسی ادارے میں کسی خاص طبقے کے طلبہ کی تعداد زیادہ ہو جانا محض میرٹ کا نتیجہ ہے تو اسے مذہبی یا فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آئینی روح کے بھی منافی ہے۔ تعلیمی ادارے عبادت گاہ نہیں ہوتے، جہاں عقیدے کی بنیاد پر دروازے کھلیں یا بند ہوں؛ وہ علم کے مراکز ہوتے ہیں جہاں اہلیت اور قابلیت ہی واحد معیار ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے اس معاملے میں جذباتی نعروں، سڑکوں پر احتجاج اور سیاسی مداخلت نے مسئلے کو مزید اُلجھا دیا۔ نتیجتاً نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے کالج کی منظوری منسوخ ہونا ایک ایسا قدم ثابت ہوا جس کا سب سے بڑا خمیازہ طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے،وہ طلبہ جو نہ احتجاج کے ذمہ دار ہیں، نہ انتظامی خامیوں کے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر واقعی ادارے میں بنیادی ڈھانچے، فیکلٹی یا معیار سے متعلق نقائص موجود تھے تو ان کی نشاندہی داخلوں سے پہلے کیوں نہ کی گئی؟ منظوری کے بعد اچانک سخت کارروائی انتظامی نااہلی کے شبہے کو جنم دیتی ہے۔ ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت اور غیرجانبدارانہ فیصلے کریں تاکہ طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہ لگے۔
ریاستی انتظامیہ اور مرکزی حکومت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ انہیں فوری طور پر متاثرہ طلبہ کی باعزت منتقلی، تعلیمی تسلسل اور ذہنی دباؤ کے ازالے کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ تعلیم میں مذہب یا شناخت کی بنیاد پر تفریق ناقابلِ قبول ہے۔
آخرکار، اس تنازعے کا حل احتجاج یا منسوخی میں نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی نظام، شفاف نگرانی اور آئینی اصولوں کی پاسداری میں ہے۔ اگر ہم نے اس واقعے سے سبق نہ سیکھا تو نقصان صرف ایک کالج یا ایک بیچ کا نہیں ہوگا، بلکہ پورے تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا۔









