امت نیوز ڈیسک //
امرتسر : ’’دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں کشمیر میں تبدیلی تو آئی ہے، مگر زمینی سطح پر کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ زمینی سطح پر حالات بالکل بھی ویسے نہیں، جیسے مرکزی سرکار نے اس فیصلے کے وقت دعوے کیے تھے۔‘‘ ان باتوں کا اظہار جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز ریاست پنجاب میں کیا۔
امرتسر میں این جی او ’’پھلکاری ویمن آف امرتسر‘‘ کے ایک پروگرام کے موقع پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نہ تشدد میں کمی آئی ہے، نہ بے روزگاری گھٹی ہے اور نہ ہی دہشت گردی پر قابو پایا جا سکا ہے۔ عمر عبداللہ کا یوٹی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد امرتسر کا پہلا دورہ تھا۔
عمر کے مطابق: ’’بدلاؤ تو آیا ہے، لیکن کیا بہتری آئی ہے، یہی سوال ہے۔‘‘ پہلگام دہشت گرد حملے اور دہلی میں ہوئے دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق کیے گئے تمام وعدے غلط ثابت ہوئے ہیں۔‘‘
انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاحوں کی آمد میں بتدریج اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بار صرف تعداد بڑھانے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے۔ ’’ہم نہیں چاہتے کہ جموں و کشمیر آنے والے سیاحوں کو نشانہ بنایا جائے۔‘‘
عمر عبداللہ نے منریگا اسکیم میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ ’’مرکز نے اس اسکیم کا نام بدل کر اسے کمزور کر دیا ہے اور پہلے سے قرض میں ڈوبی ریاستوں پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔‘‘
سندھ طاس معاہدے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’اس معاہدے سے جموں و کشمیر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’جموں و کشمیر کا ایک بڑا رقبہ رنجیت ساگر ڈیم کے زیر استعمال ہے، مگر ہمیں اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ اس منصوبے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مرکز کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائےکہ ہم ان دریاؤں کے پانی کو استعمال کر سکیں جو اس معاہدے کا حصہ ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر جموں و کشمیر کو مزید تقسیم کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقسیم سے خطے کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ ’’تقسیم سے لداخ کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے، اور اب جموں و کشمیر کو بھی اسی راستے پر دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘









