کشمیر میں نئی ریلوے لائن کے منصوبے کو سرکاری حلقے ترقی، رابطہ کاری اور معاشی بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ بلاشبہ ریل نظام کسی بھی خطے کی معیشت میں نئی جان ڈال سکتا ہے، سیاحت اور تجارت کو سہارا دے سکتا ہے اور دور دراز آبادیوں کو مرکزی دھارے سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن کشمیر میں یہ منصوبہ جس انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، وہ ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: کیا ترقی صرف انفراسٹرکچر کا نام ہے یا عوام کی رضامندی اور ان کے حقوق بھی ترقی کا حصہ ہیں؟
حالیہ دنوں میں کئی علاقوں میں عوامی احتجاج اور مخالفت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مسئلہ ریلوے لائن سے زیادہ زمین، روزگار، ماحولیات اور شفافیت کا ہے۔ کشمیر کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت اور باغبانی خصوصاً سیب کے باغات پر ہے۔ اگر نئی لائن کی وجہ سے زرعی زمینیں اور باغات متاثر ہوتے ہیں تو اس کا مطلب صرف زمین کا نقصان نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاش کا چھن جانا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ترقی کے نعروں میں دبایا نہیں جا سکتا۔
عوامی حلقوں کی سب سے بڑی شکایت یہ سامنے آتی ہے کہ منصوبے کے بارے میں مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ زمین کی نشاندہی، سروے اور دیگر کارروائیاں جب عوامی مشاورت کے بغیر ہوں تو بدگمانی پیدا ہونا فطری ہے۔ اسی طرح معاوضے کی رقم، اس کی ادائیگی اور باز آبادکاری کے نظام پر بھی سوالات اُٹھتے ہیں۔ اگر متاثرہ خاندانوں کو بروقت اور منصفانہ معاوضہ نہ ملے تو ترقیاتی منصوبے عوام کی نظر میں جبر بن جاتے ہیں۔
ماحولیاتی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں، لینڈ سلائیڈنگ، جنگلات کی کٹائی اور آبی ذخائر پر دباؤ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے اگر ماحولیات کی حفاظت کے اصولوں کے مطابق نہ بنائے جائیں تو وقتی فائدہ مستقبل کے بڑے نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کو نقصان پہنچانا دراصل آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر جیسے حساس خطے میں بڑے منصوبے صرف معاشی زاویے سے نہیں دیکھے جاتے۔ یہاں عوامی اعتماد پہلے ہی کمزور ہے۔ ایسے میں اگر کوئی منصوبہ سکیورٹی یا سیاسی مقاصد سے جڑا ہوا محسوس ہو تو مخالفت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ محض طاقت اور اعلان کی سیاست سے آگے بڑھے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے شفافیت، مکالمہ اور انصاف کو بنیاد بنائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نئی ریلوے لائن کو متنازع بنانے کے بجائے اسے عوام دوست منصوبہ بنائے۔ متبادل روٹس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، زرعی زمین اور باغات کو کم سے کم نقصان پہنچایا جائے، اور اگر کہیں نقصان ناگزیر ہو تو معاوضہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق، فوری اور غیر جانبدارانہ انداز میں دیا جائے۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کے لیے روزگار، متبادل زمین یا مستقل باز آبادکاری کا واضح لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
کشمیر کو ترقی کی ضرورت ہے، لیکن ایسی ترقی نہیں جو عوام کو دیوار سے لگائے۔ اگر ریلوے لائن واقعی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے تو اسے عوام کی شمولیت، ان کے حقوق کے تحفظ اور ماحولیات کے احترام کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ ورنہ یہ منصوبہ سہولت کے بجائے کشمکش اور بے چینی میں اضافہ کرے گا۔ ترقی کا اصل معیار سڑکیں اور پٹریاں نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں بہتری اور ان کے اعتماد کی بحالی ہے۔





