امت نیوز ڈیسک //
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات 2026 کے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے واضح اور بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جماعت اور اس کے اتحادیوں کو 212 سے زائد نشستوں پر مضبوط برتری حاصل ہے، جس کے بعد طارق رحمان کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والے ان انتخابات میں عوام نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ملک بھر میں 299 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے جبکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے۔
طارق رحمان کی کامیابی
بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کو بوگورہ-6 حلقہ سے غیر سرکاری طور پر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی حریف پر نمایاں برتری حاصل کی۔ طارق رحمان نے اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے احترام میں کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ کامیابی کی تقریبات مؤخر کر دیں اور نماز جمعہ کے بعد خصوصی دعا کا اہتمام کریں۔
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد عالمی رہنماؤں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعظم نے طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی بنگلہ دیشی عوام کے اعتماد کا اظہار ہے اور بھارت ایک جمہوری اور ترقی یافتہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بی این پی کی فتح پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی۔
بنگلہ دیش میں امریکی سفیر Brent T. Christensen نے کامیاب انتخابات اور بی این پی کی تاریخی جیت پر مبارکباد پیش کی اور دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعتِ اسلامی اتحاد نے تقریباً 70 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں نے چند نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ حتمی سرکاری نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے، تاہم ابتدائی رجحانات بنگلہ دیش کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخاب بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے بعد ملک میں نئی سیاسی سمت متعین ہونے کا امکان ہے۔




