امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن/جنیوا، 13 فروری:امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ منگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس دورِ مذاکرات کا مقصد ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم خلیج میں فوجی تیاری بھی جاری ہے اور ایک دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑا تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو سخت اقدام اٹھایا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی وفد میں صدر کے سینئر مشیر جراڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف شامل ہوں گے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
ان مذاکرات میں عمان کے وزیر خارجہ ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے امریکی پیغامات پر مشتمل ایک دستاویز ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے حوالے کی ہے، جس کی تصدیق ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر صفر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، مگر اس نے اب تک اپنے جوہری پروگرام پر عملی اقدامات کا واضح اعلان نہیں کیا۔
عالمی برادری کی نظریں اب جنیوا میں ہونے والے ان اہم مذاکرات پر مرکوز ہیں۔





