امت نیوز ڈیسک //
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ حال ہی میں ختم ہونے والے 13 ویں عام انتخابات کے نتائج کے بعد بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے جمعہ کی رات دیر گئے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ کی فہرست کا ایک سرکاری گزٹ (نوٹیفکیشن) جاری کر دیا ہے۔ اس گزٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی نئے اراکین پارلیمنٹ کی حلف برداری کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
انتخابی نتائج کی تفصیلات
سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق الیکشن کمیشن نے 300 میں سے 297 پارلیمانی نشستوں کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے گزٹ جاری کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن پر الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے سیکرٹری اختر احمد نے دستخط کیے ہیں۔ جمعرات کو ملک کی 300 میں سے 299 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ دو نشستوں کے نتائج کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔
بی این پی کی تاریخی جیت
مرحومہ وزیر اعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ان انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بی این پی نے 297 میں سے 209 سیٹیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی۔ یہ پارٹی دو دہائیوں کے انتظار کے بعد اقتدار میں واپسی کر رہی ہے۔ وہیں ان انتخابات حصہ لینے والی جماعت اسلامی نے پہلی بار 68 نشستیں حاصل کر کے دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔
شیخ حسینہ کی پارٹی کو بڑا دھچکا
اس الیکشن نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے لیے ایک وجودی بحران پیدا کر دیا، جو اگست سنہ 2024 میں طلبہ کے احتجاج کے بعد ملک چھوڑ کر فرار ہو گئی تھیں۔ ان انتخابات میں عوامی لیگ کے حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ یہ انتخابات حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا اور عدم استحکام کے درمیان منعقد ہوئے۔
کلیدی اعداد و شمار اور اگلا قدم
الیکشن کمیشن کے مطابق کل ووٹرز ٹرن آؤٹ 59.44 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ بی ڈی نیوز 24 نیوز پورٹل کے مطابق اگلا مرحلہ حلف برداری کی تقریب ہو گی جس کے بعد نومنتخب اراکین باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں اپنی نشستیں سنبھالیں گے۔ یہ انتخابات بنگلہ دیش کے لیے کافی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ملک کو حالیہ مہینوں میں تشدد، اقلیتوں پر حملوں اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔




